Showing posts with label احمد سلیم رفی. Show all posts
Showing posts with label احمد سلیم رفی. Show all posts

Friday, 27 October 2023

اس کو دینا ہے تر و تازہ نہیں لگ رہا ہے

 زعفرانی غزل


اس کو دینا ہے، تر و تازہ نہیں لگ رہا ہے

پُھول کی عمر کا اندازہ نہیں لگ رہا ہے

چَھٹی حِس کہتی ہے اس بار پلٹ کر دیکھوں

کسی اوباش کا آوازہ نہیں لگ رہا

اس نے یہ کہہ کے مسیحائی نہیں کی میری

زخم گہرا ہے، مگر تازہ نہیں لگ رہا

Thursday, 3 March 2022

سرد پتھریلی زمینوں میں گڑے رہنا ہے

 سرد پتھریلی زمینوں میں گڑے رہنا ہے 

یعنی حالات کو اب یونہی کڑے رہنا ہے 

اس نے بے ساختہ کہہ جانا ہے سب کچھ مجھ سے

میں نے لفظوں کے چناؤ میں اڑے رہنا ہے

ایک دستک پہ وہ دروازہ نہیں کھولے گا 

اسے معلوم جو ہے میں نے کھڑے رہنا ہے 

Wednesday, 16 February 2022

گلی میں پیڑ اگر آخری مکاں تک ہیں

 گلی میں پیڑ اگر آخری مکاں تک ہیں

تپش کی شاخیں بھی صحنوں کے درمیاں تک ہیں

ہماری پشت پہ سورج تو تم نے دیکھ لیا

ہمارے سائے بھی دیکھو کہاں کہاں تک ہیں

بلندیوں پہ ہمیشہ ہمیں نہیں رہنا

ہم آفتاب ہیں اور شام کی اذاں تک ہیں

Wednesday, 9 February 2022

وہ تہی دست بھی کیا خوب کہانی گر تھا

 وہ تہی دست بھی کیا خوب کہانی گر تھا

باتوں باتوں میں مجھے چاند بھی لا دیتا تھا

ہنساتا تھا مجھ کو تو پھر وہ رُلا بھی دیتا تھا

کر کے وہ مجھ سے اکثر وعدے بُھلا بھی دیتا تھا

بے وفا تھا بہت مگر دل کو اچھا لگتا تھا

کبھی کبھار باتیں محبت کی سُنا بھی دیتا تھا

Tuesday, 8 February 2022

جچا نہ شہر تو پھر گاؤں میں چلے آئے

 جچا نہ شہر تو پھر گاؤں میں چلے آئے

انہیں پرانے مسیحاؤں میں چلے آئے

ہم اس کے واسطے تتلی پکڑنے نکلے تھے

نہ جانے کس طرح صحراؤں میں چلے آئے

زیادتی بھی تِری تھی یہ دیکھ پھر بھی ہم

تجھے منانے تِرے پاؤں میں چلے آئے

Tuesday, 14 September 2021

بصد خلوص و نفاست، نکال لیتا ہے

 بصد خلوص و نفاست نکال لیتا ہے

کسی بھی شے سے رقابت نکال لیتا ہے

کبھی کبھی تو وہ شرم و حیا کی شدت سے

عجب گلاب سے رنگت نکال لیتا ہے

ہمارے چاروں طرف صرف خاک بچتی ہے

اگر وہ دشت سے وحشت نکال لیتا ہے