زعفرانی غزل
اس کو دینا ہے، تر و تازہ نہیں لگ رہا ہے
پُھول کی عمر کا اندازہ نہیں لگ رہا ہے
چَھٹی حِس کہتی ہے اس بار پلٹ کر دیکھوں
کسی اوباش کا آوازہ نہیں لگ رہا
اس نے یہ کہہ کے مسیحائی نہیں کی میری
زخم گہرا ہے، مگر تازہ نہیں لگ رہا
زعفرانی غزل
اس کو دینا ہے، تر و تازہ نہیں لگ رہا ہے
پُھول کی عمر کا اندازہ نہیں لگ رہا ہے
چَھٹی حِس کہتی ہے اس بار پلٹ کر دیکھوں
کسی اوباش کا آوازہ نہیں لگ رہا
اس نے یہ کہہ کے مسیحائی نہیں کی میری
زخم گہرا ہے، مگر تازہ نہیں لگ رہا
سرد پتھریلی زمینوں میں گڑے رہنا ہے
یعنی حالات کو اب یونہی کڑے رہنا ہے
اس نے بے ساختہ کہہ جانا ہے سب کچھ مجھ سے
میں نے لفظوں کے چناؤ میں اڑے رہنا ہے
ایک دستک پہ وہ دروازہ نہیں کھولے گا
اسے معلوم جو ہے میں نے کھڑے رہنا ہے
گلی میں پیڑ اگر آخری مکاں تک ہیں
تپش کی شاخیں بھی صحنوں کے درمیاں تک ہیں
ہماری پشت پہ سورج تو تم نے دیکھ لیا
ہمارے سائے بھی دیکھو کہاں کہاں تک ہیں
بلندیوں پہ ہمیشہ ہمیں نہیں رہنا
ہم آفتاب ہیں اور شام کی اذاں تک ہیں
وہ تہی دست بھی کیا خوب کہانی گر تھا
باتوں باتوں میں مجھے چاند بھی لا دیتا تھا
ہنساتا تھا مجھ کو تو پھر وہ رُلا بھی دیتا تھا
کر کے وہ مجھ سے اکثر وعدے بُھلا بھی دیتا تھا
بے وفا تھا بہت مگر دل کو اچھا لگتا تھا
کبھی کبھار باتیں محبت کی سُنا بھی دیتا تھا
جچا نہ شہر تو پھر گاؤں میں چلے آئے
انہیں پرانے مسیحاؤں میں چلے آئے
ہم اس کے واسطے تتلی پکڑنے نکلے تھے
نہ جانے کس طرح صحراؤں میں چلے آئے
زیادتی بھی تِری تھی یہ دیکھ پھر بھی ہم
تجھے منانے تِرے پاؤں میں چلے آئے
بصد خلوص و نفاست نکال لیتا ہے
کسی بھی شے سے رقابت نکال لیتا ہے
کبھی کبھی تو وہ شرم و حیا کی شدت سے
عجب گلاب سے رنگت نکال لیتا ہے
ہمارے چاروں طرف صرف خاک بچتی ہے
اگر وہ دشت سے وحشت نکال لیتا ہے