گلی میں پیڑ اگر آخری مکاں تک ہیں
تپش کی شاخیں بھی صحنوں کے درمیاں تک ہیں
ہماری پشت پہ سورج تو تم نے دیکھ لیا
ہمارے سائے بھی دیکھو کہاں کہاں تک ہیں
بلندیوں پہ ہمیشہ ہمیں نہیں رہنا
ہم آفتاب ہیں اور شام کی اذاں تک ہیں
بڑے گھروں پہ چراغاں کوئی نہیں کرتا
بڑے گھروں کی منڈیریں ہی آسماں تک ہیں
ذرا سی بات پہ ہم دل برا نہیں کرتے
ہمیں بھی تم سے گلے ہیں مگر زباں تک ہیں
رفی یہ دشت نہیں گھات ہے لٹیروں کی
مسافروں کے لیے اس میں سائباں تک ہیں
احمد سلیم رفی
No comments:
Post a Comment