Wednesday, 16 February 2022

گلی میں پیڑ اگر آخری مکاں تک ہیں

 گلی میں پیڑ اگر آخری مکاں تک ہیں

تپش کی شاخیں بھی صحنوں کے درمیاں تک ہیں

ہماری پشت پہ سورج تو تم نے دیکھ لیا

ہمارے سائے بھی دیکھو کہاں کہاں تک ہیں

بلندیوں پہ ہمیشہ ہمیں نہیں رہنا

ہم آفتاب ہیں اور شام کی اذاں تک ہیں

بڑے گھروں پہ چراغاں کوئی نہیں کرتا

بڑے گھروں کی منڈیریں ہی آسماں تک ہیں

ذرا سی بات پہ ہم دل برا نہیں کرتے

ہمیں بھی تم سے گلے ہیں مگر زباں تک ہیں

رفی یہ دشت نہیں گھات ہے لٹیروں کی

مسافروں کے لیے اس میں سائباں تک ہیں


احمد سلیم رفی

No comments:

Post a Comment