بچہ ہے جو اک مجھ میں وہ ہنسنے پہ بضد ہے
سنجیدہ مزاجی کو بدلنے پہ بضد ہے
صحرا کی مسافت سے تھکاوٹ بھی ہے لیکن
اور دل کہ ابھی خاک اڑانے پہ بضد ہے
اس ریشمی لڑکی کی اداؤں کا ہے جادو
پتھر تھا مگر دل بھی پگھلنے پہ بضد ہے
وحشت کا تقاضا ہے اسے دور سے دیکھوں
اک حسن کا چشمہ جو ابلنے پہ بضد ہے
میں نے تو اسے مسندِ دل پر تھا بٹھایا
،،وہ شخص مرے دل سے نکلنے پہ بضد ہے،،
ویران جزیرے تو نہیں راس کسی کو
یہ سوچ کے وہ مجھ سے بچھڑنے پہ بضد ہے
میں جس پہ لٹاتا ہوں حسیں شام و سحر قیس
وہ شخص مِرا ہاتھ جھٹکنے پہ بضد ہے
جمیل احمد قیس
No comments:
Post a Comment