Showing posts with label وقار حیات. Show all posts
Showing posts with label وقار حیات. Show all posts

Friday, 14 August 2026

ہجر دیوار کرنے لگ گیا تھا

 آب پر وار کرنے لگ گیا تھا

ہِجر دِیوار کرنے لگ گیا تھا

کس طرح قتل کرتا میں اس کو

وه مجھے پیار کرنے لگ گیا تھا

دُشمنی میں بھی کوئی کرتا نہیں

جو مِرا یار کرنے لگ گیا تھا

Tuesday, 10 March 2026

یار جب مرنا بھی آسان نہیں ہوتا تھا

 اس قدر پیار کا فقدان نہیں ہوتا تھا

پہلے میں اتنا پریشان نہیں ہوتا تھا

ہم سے حساس بھلا کیسے جیا کرتے تھے

یار جب مرنا بھی آسان نہیں ہوتا تھا

پڑ گیا ہے مری صحبت کا اثر اس پر بھی

ورنہ یہ دشت تو ویران نہیں ہوتا تھا

Sunday, 10 November 2024

دیکھنے سے بھی میلا ہوتا ہے

 دیکھنے سے بھی میلا ہوتا ہے

اس گلی میں اک ایسا چہرہ ہے 

میرا وقت  اچھا ہی رہے گا دوست  

میرے ماتھے پہ اس کا بوسہ ہے

کس کی صحبت میں دن گزرتے ہیں

رنگ غزلوں میں صاف دکھتا ہے

Friday, 27 September 2024

کس تردد میں مبتلا ہو گا

 کس تردد میں مبتلا ہو گا

جب وہ آئینہ دیکھتا ہو گا 

وہ نظر مجھ سے اٹھ گئی ہے دوست

اور اب اس سے  کیا برا ہو گا  

حبس کی دھوپ تیز ہو گئی ہے 

وه دریچہ نہیں  کھلا ہو گا

Wednesday, 13 October 2021

شجر وہ اس لیے بھایا نہیں ہے

 شجر وہ اس لیے بھایا نہیں ہے

کہ اس کا پھل تو ہے سایہ نہیں ہے

بینائی آنکھ کی جانے لگی ہے

اسے عرصہ ہوا دیکھا نہیں ہے

ہر اک کو کیسے رکھ لوں اس میں پیارے

یہ میرا دل ہے کوئی بستہ نہیں ہے