آب پر وار کرنے لگ گیا تھا
ہِجر دِیوار کرنے لگ گیا تھا
کس طرح قتل کرتا میں اس کو
وه مجھے پیار کرنے لگ گیا تھا
دُشمنی میں بھی کوئی کرتا نہیں
جو مِرا یار کرنے لگ گیا تھا
آب پر وار کرنے لگ گیا تھا
ہِجر دِیوار کرنے لگ گیا تھا
کس طرح قتل کرتا میں اس کو
وه مجھے پیار کرنے لگ گیا تھا
دُشمنی میں بھی کوئی کرتا نہیں
جو مِرا یار کرنے لگ گیا تھا
اس قدر پیار کا فقدان نہیں ہوتا تھا
پہلے میں اتنا پریشان نہیں ہوتا تھا
ہم سے حساس بھلا کیسے جیا کرتے تھے
یار جب مرنا بھی آسان نہیں ہوتا تھا
پڑ گیا ہے مری صحبت کا اثر اس پر بھی
ورنہ یہ دشت تو ویران نہیں ہوتا تھا
دیکھنے سے بھی میلا ہوتا ہے
اس گلی میں اک ایسا چہرہ ہے
میرا وقت اچھا ہی رہے گا دوست
میرے ماتھے پہ اس کا بوسہ ہے
کس کی صحبت میں دن گزرتے ہیں
رنگ غزلوں میں صاف دکھتا ہے
کس تردد میں مبتلا ہو گا
جب وہ آئینہ دیکھتا ہو گا
وہ نظر مجھ سے اٹھ گئی ہے دوست
اور اب اس سے کیا برا ہو گا
حبس کی دھوپ تیز ہو گئی ہے
وه دریچہ نہیں کھلا ہو گا
شجر وہ اس لیے بھایا نہیں ہے
کہ اس کا پھل تو ہے سایہ نہیں ہے
بینائی آنکھ کی جانے لگی ہے
اسے عرصہ ہوا دیکھا نہیں ہے
ہر اک کو کیسے رکھ لوں اس میں پیارے
یہ میرا دل ہے کوئی بستہ نہیں ہے