Showing posts with label یاسین عاطر. Show all posts
Showing posts with label یاسین عاطر. Show all posts

Monday, 26 April 2021

تمہیں نہ پھر سے ستائیں گے ہم خدا حافظ

 تمہیں نہ پھر سے ستائیں گے ہم، خدا حافظ

کہ اب نہ لوٹ کے آئیں گے ہم، خدا حافظ

رکھیں گے تم کو بہت دور اپنی نظروں سے

مگر نہ دل سے بھلائیں گے ہم، خدا حافظ

ہماری ذات سے تکلیف ہو رہی ہے تمہیں

اک اور شہر بسائیں گے ہم، خدا حافظ

Monday, 19 April 2021

پھر اس نے مجھ سے بات کی کھانے کی میز پر

 پھر اس نے مجھ سے بات کی کھانے کی میز پر

اک رسمِ التفات کی کھانے کی میز پر

جتنے بھی تھے گِلے سبھی چپ چاپ سن لیے

میں نے کچھ احتیاط کی کھانے کی میز پر

کچھ اور ہی لگا مجھے گندم کا ذائقہ

روٹی تھی اس کے ہاتھ کی کھانے کی میز پر

Thursday, 15 April 2021

اک وہ لڑکی بھی مطلبی ہے میاں

 اک وہ لڑکی بھی مطلبی ہے میاں

پیار سِکوں میں تولتی ہے میاں

سر سے پاؤں تلک اسے دیکھا

اک بناوٹ کی دلکشی ہے میاں

اس کو حاجت نہیں سماعت کی

آنکھوں آنکھوں میں بولتی ہے میاں

بہت کٹھن تھا مگر فیصلہ ضروری تھا

 بہت کٹھن تھا مگر فیصلہ ضروری تھا 

سو طے ہوا کہ اسے چھوڑنا ضروری تھا 

عداوتوں میں بھی ابلاغ کی ضرورت تھی 

کہ گفتگو کے لیے رابطہ ضروری تھا 

پتا چلا کہ وہی لوگ ہیں خسارے میں

جنہیں یقیں کے لیے معجزہ ضروری تھا

Wednesday, 14 April 2021

جھوٹ چہرے پہ سجانا نہیں آیا مجھ کو

 جھوٹ چہرے پہ سجانا نہیں آیا مجھ کو

زندگی!! تجھ کو بِتانا نہیں آیا مجھ کو

رہ کے دنیا میں بھی سیکھی نہیں دنیا داری

کر کے احسان جتانا نہیں آیا مجھ کو

دنیا تھیٹر ہے تو ناکام اداکار ہوں میں

کوئی کردار نبھانا نہیں آیا مجھ کو