تمہیں نہ پھر سے ستائیں گے ہم، خدا حافظ
کہ اب نہ لوٹ کے آئیں گے ہم، خدا حافظ
رکھیں گے تم کو بہت دور اپنی نظروں سے
مگر نہ دل سے بھلائیں گے ہم، خدا حافظ
ہماری ذات سے تکلیف ہو رہی ہے تمہیں
اک اور شہر بسائیں گے ہم، خدا حافظ
تمہیں نہ پھر سے ستائیں گے ہم، خدا حافظ
کہ اب نہ لوٹ کے آئیں گے ہم، خدا حافظ
رکھیں گے تم کو بہت دور اپنی نظروں سے
مگر نہ دل سے بھلائیں گے ہم، خدا حافظ
ہماری ذات سے تکلیف ہو رہی ہے تمہیں
اک اور شہر بسائیں گے ہم، خدا حافظ
پھر اس نے مجھ سے بات کی کھانے کی میز پر
اک رسمِ التفات کی کھانے کی میز پر
جتنے بھی تھے گِلے سبھی چپ چاپ سن لیے
میں نے کچھ احتیاط کی کھانے کی میز پر
کچھ اور ہی لگا مجھے گندم کا ذائقہ
روٹی تھی اس کے ہاتھ کی کھانے کی میز پر
اک وہ لڑکی بھی مطلبی ہے میاں
پیار سِکوں میں تولتی ہے میاں
سر سے پاؤں تلک اسے دیکھا
اک بناوٹ کی دلکشی ہے میاں
اس کو حاجت نہیں سماعت کی
آنکھوں آنکھوں میں بولتی ہے میاں
بہت کٹھن تھا مگر فیصلہ ضروری تھا
سو طے ہوا کہ اسے چھوڑنا ضروری تھا
عداوتوں میں بھی ابلاغ کی ضرورت تھی
کہ گفتگو کے لیے رابطہ ضروری تھا
پتا چلا کہ وہی لوگ ہیں خسارے میں
جنہیں یقیں کے لیے معجزہ ضروری تھا
جھوٹ چہرے پہ سجانا نہیں آیا مجھ کو
زندگی!! تجھ کو بِتانا نہیں آیا مجھ کو
رہ کے دنیا میں بھی سیکھی نہیں دنیا داری
کر کے احسان جتانا نہیں آیا مجھ کو
دنیا تھیٹر ہے تو ناکام اداکار ہوں میں
کوئی کردار نبھانا نہیں آیا مجھ کو