Thursday, 15 April 2021

اک وہ لڑکی بھی مطلبی ہے میاں

 اک وہ لڑکی بھی مطلبی ہے میاں

پیار سِکوں میں تولتی ہے میاں

سر سے پاؤں تلک اسے دیکھا

اک بناوٹ کی دلکشی ہے میاں

اس کو حاجت نہیں سماعت کی

آنکھوں آنکھوں میں بولتی ہے میاں

کس قدر شخصیت ہے پیچیدہ

یوں تو چہرے پہ سادگی ہے میاں

اِک عادت ہے مشترک اپنی

رات بھر وہ جاگتی ہے میاں

بات کرتی ہے اعتماد کے ساتھ

جیسے مدت سے جانتی ہے میاں

عشق بھی ایک سانحہ عجب

گلے مل کے وہ رو رہی ہے میاں

اس بدن کی صفات کیا کہیے

آگ بھی ہے پھول بھی ہے میاں

اس کو مشکل دکھائی دیتا ہوں

جب کبھی مجھ کو سوچتی ہے میاں

جیت لی اس نے اک معاش کی جنگ

اب وہ آگے نکل گئی ہے میاں

اب تو ڈالر ہی دورِ حاضر میں

اِک غزل، نظم مثنوی ہے میاں

آؤ، تم کو ملائیں عاطر سے

جس کے شعروں میں تازگی ہے میاں

یاسین عاطر

No comments:

Post a Comment