Thursday, 15 April 2021

دل تو برساتا ہے ہر روز ہی غم کے ساون

 دل تو برساتا ہے ہر روز ہی غم کے ساون

پھر بھی بجھتے نہیں یادوں کے سلگتے ایندھن

زندگی خوابوں کی چلمن میں یوں اٹھلاتی ہے

جیسے سکھیوں میں گھری ہو کوئی شرمیلی دلہن

اب تو ہر روز ہی اک آنچ نئی اٹھتی ہے

یہ مِرا جسم نہ بن جائے دہکتا مدفن

اس سے پہلے کہ صبا آنکھ مچولی کھیلے

بند کر دو در امید کا ہر ہر روزن

شب کے آئینے میں تصویر تمنا دیکھو

عکس دکھلائے گا کیا تم کو سحر کا درپن

اس قدر بھی تو ستاؤ نہ بہکتے خوابو

دل تعبیر کی رک جائے لرزتی دھڑکن

ہے وہ وحشت کہ ہوا بھی نہیں چلتی اطہر

بن گیا کتنا بھیانک یہ وفا کا آنگن


اطہر عزیز

No comments:

Post a Comment