Showing posts with label زمان کنجاہی. Show all posts
Showing posts with label زمان کنجاہی. Show all posts

Thursday, 15 October 2020

کھنڈر دل میں گزرے زمانوں کے ہیں

 کھنڈر دل میں گزرے زمانوں کے ہیں

مکیں ہم پرانے مکانوں کے ہیں

ہر اک منہ کو جیسے لہو چاہیے

عجب ذائقے اب زبانوں کے ہیں

زمیں کا سکوں کر رہے ہیں تباہ

یہ باشندے کن آسمانوں کے ہیں

Monday, 7 September 2020

بھلا چکا ہوں مگر تجھ سے پیار کرتا ہوں

 بھلا چکا ہوں مگر تجھ سے پیار کرتا ہوں

تُو بے وفا ہے تو کیوں کیوں انتظار کرتا ہوں

تِری تلاش میں جاتا ہوں میں بھی صحرا ہوں

یہ راہ تیرے لیے اختیار کرتا ہوں

تِرے ہی نام کو لکھتا ہوں ریگِ ساحل پر

یہ کام کرتا ہوں اور بار بار کرتا ہوں

محبت کے سائے میں کس شہر میں آ بسا ہوں

 محبت کے سائے

میں کس شہر میں آ بسا ہوں

کہ جس کے مکیں

دیکھتے تک نہیں، پوچھتے تک نہیں

مِرے سامنے ایک صحرائے غم ہے

جہاں دھوپ ہی دھوپ ہے

Sunday, 6 September 2020

نظر میں کیسا منظر بس گیا ہے

 نظر میں کیسا منظر بس گیا ہے

بیاباں میں سمندر بس گیا ہے

چمک دیوار و در کی کہہ رہی ہے

کوئی اس گھر کے اندر بس گیا ہے

ٹھکانہ مل گیا ہے اس کو آخر

وہ میرے دل کے اندر بس گیا ہے

شور احساس کے کاغذ پہ سنائی دے گا

 شور احساس کے کاغذ پہ سنائی دے گا

میرے ہر لفظ میں مفہوم دکھائی دے گا

شہر سے کس لیے جاتا ہے تو صحرا کی طرف

آ، مِرے دل میں تجھے دشت دکھائی دے گا

راس آئے گا نہ تجھ کو کبھی سورج کا سفر

وہ اندھیرا ہے کہ رستہ نہ سجھائی دے گا

Friday, 4 September 2020

تری یادوں نے تنہا کر دیا ہے

 تِری یادوں نے تنہا کر دیا ہے

مجھے اندر سے صحرا کر دیا ہے

خفا ہو کر شعاعِ مہر نے بھی

مِرے آنگن کو سُونا کر دیا ہے

سیاہی کس کی نظروں میں بھری ہے

دلوں کو کس نے کالا کر دیا ہے  

منزل کو دشوار سمجھ کر ڈرتا ہوں

 منزل کو دشوار سمجھ کر ڈرتا ہوں

پھر بھی پار میں شوق کی سرحد کرتا ہوں

رستہ رستہ اپنی ذات کے صحرا میں

جانے کس کی یاد میں روز بکھرتا ہوں

رات کی چپ میں اکثر ایسا ہوتا ہے

اپنی ہی تصویر سے باتیں کرتا ہوں

Tuesday, 16 January 2018

مجھے تو شور قیامت دلوں میں ملتا ہے

 مجھے تو شورِ قیامت دلوں میں مِلتا ہے

سکونِ قلب کہاں جنگلوں میں ملتا ہے

وہ مجھ سے دور اگر ہے تو کیا ہوا آخر

وہ میرے دھیان، مِری دھڑکنوں میں ملتا ہے

خوشی کے دن بھی گزارے مگر نہ ہاتھ آیا

وہ اک سرور جو مجھ کو دکھوں میں ملتا ہے

پر ہول جنگلوں کی صدا میرے ساتھ ہے

 پُر ہول جنگلوں کی صدا میرے ساتھ ہے 

میں جس طرف بھی جاؤں ہوا میرے ساتھ ہے 

دنیا میں آج مجھ کو بلاؤں کا ڈر نہیں 

ہر لمحہ میری ماں کی دعا میرے ساتھ ہے 

دشوار راستوں میں حفاظت کرے گا وہ 

میں مطمئن ہوں میرا خدا میرے ساتھ ہے 

خود اپنی سوچ کے پنچھی نہ اپنے بس میں رہے

 خود اپنی سوچ کے پنچھی نہ اپنے بس میں رہے 

کھلی فضا کی تمنا تھی، اور قفس میں رہے 

بچھڑ کے مجھ سے عذاب ان پہ بھی بہت گزرے 

وہ مطمئن نہ کسی پَل کسی برس میں رہے 

میں ایک عمر سے ان کو تلاش کرتا ہوں 

کچھ ایسے لمحے تھے جو اپنی دسترس میں رہے 

میں رتجگوں کے مکمل عذاب دیکھوں گا

میں رتجگوں کے مکمل عذاب دیکھوں گا 

کسی نے جو نہیں دیکھے وہ خواب دیکھوں گا 

وہ وقت آئے گا میری حیات میں جب میں 

محبتوں کے چمن میں گلاب دیکھوں گا 

گھرا ہوا ہوں اندھیروں میں غم نہیں مجھ کو 

شبِ سیاہ کے بعد آفتاب دیکھوں گا