کھنڈر دل میں گزرے زمانوں کے ہیں
مکیں ہم پرانے مکانوں کے ہیں
ہر اک منہ کو جیسے لہو چاہیے
عجب ذائقے اب زبانوں کے ہیں
زمیں کا سکوں کر رہے ہیں تباہ
یہ باشندے کن آسمانوں کے ہیں
کھنڈر دل میں گزرے زمانوں کے ہیں
مکیں ہم پرانے مکانوں کے ہیں
ہر اک منہ کو جیسے لہو چاہیے
عجب ذائقے اب زبانوں کے ہیں
زمیں کا سکوں کر رہے ہیں تباہ
یہ باشندے کن آسمانوں کے ہیں
بھلا چکا ہوں مگر تجھ سے پیار کرتا ہوں
تُو بے وفا ہے تو کیوں کیوں انتظار کرتا ہوں
تِری تلاش میں جاتا ہوں میں بھی صحرا ہوں
یہ راہ تیرے لیے اختیار کرتا ہوں
تِرے ہی نام کو لکھتا ہوں ریگِ ساحل پر
یہ کام کرتا ہوں اور بار بار کرتا ہوں
محبت کے سائے
میں کس شہر میں آ بسا ہوں
کہ جس کے مکیں
دیکھتے تک نہیں، پوچھتے تک نہیں
مِرے سامنے ایک صحرائے غم ہے
جہاں دھوپ ہی دھوپ ہے
نظر میں کیسا منظر بس گیا ہے
بیاباں میں سمندر بس گیا ہے
چمک دیوار و در کی کہہ رہی ہے
کوئی اس گھر کے اندر بس گیا ہے
ٹھکانہ مل گیا ہے اس کو آخر
وہ میرے دل کے اندر بس گیا ہے
شور احساس کے کاغذ پہ سنائی دے گا
میرے ہر لفظ میں مفہوم دکھائی دے گا
شہر سے کس لیے جاتا ہے تو صحرا کی طرف
آ، مِرے دل میں تجھے دشت دکھائی دے گا
راس آئے گا نہ تجھ کو کبھی سورج کا سفر
وہ اندھیرا ہے کہ رستہ نہ سجھائی دے گا
تِری یادوں نے تنہا کر دیا ہے
مجھے اندر سے صحرا کر دیا ہے
خفا ہو کر شعاعِ مہر نے بھی
مِرے آنگن کو سُونا کر دیا ہے
سیاہی کس کی نظروں میں بھری ہے
دلوں کو کس نے کالا کر دیا ہے
منزل کو دشوار سمجھ کر ڈرتا ہوں
پھر بھی پار میں شوق کی سرحد کرتا ہوں
رستہ رستہ اپنی ذات کے صحرا میں
جانے کس کی یاد میں روز بکھرتا ہوں
رات کی چپ میں اکثر ایسا ہوتا ہے
اپنی ہی تصویر سے باتیں کرتا ہوں
مجھے تو شورِ قیامت دلوں میں مِلتا ہے
سکونِ قلب کہاں جنگلوں میں ملتا ہے
وہ مجھ سے دور اگر ہے تو کیا ہوا آخر
وہ میرے دھیان، مِری دھڑکنوں میں ملتا ہے
خوشی کے دن بھی گزارے مگر نہ ہاتھ آیا
وہ اک سرور جو مجھ کو دکھوں میں ملتا ہے
پُر ہول جنگلوں کی صدا میرے ساتھ ہے
میں جس طرف بھی جاؤں ہوا میرے ساتھ ہے
دنیا میں آج مجھ کو بلاؤں کا ڈر نہیں
ہر لمحہ میری ماں کی دعا میرے ساتھ ہے
دشوار راستوں میں حفاظت کرے گا وہ
میں مطمئن ہوں میرا خدا میرے ساتھ ہے
خود اپنی سوچ کے پنچھی نہ اپنے بس میں رہے
کھلی فضا کی تمنا تھی، اور قفس میں رہے
بچھڑ کے مجھ سے عذاب ان پہ بھی بہت گزرے
وہ مطمئن نہ کسی پَل کسی برس میں رہے
میں ایک عمر سے ان کو تلاش کرتا ہوں
کچھ ایسے لمحے تھے جو اپنی دسترس میں رہے
میں رتجگوں کے مکمل عذاب دیکھوں گا
کسی نے جو نہیں دیکھے وہ خواب دیکھوں گا
وہ وقت آئے گا میری حیات میں جب میں
محبتوں کے چمن میں گلاب دیکھوں گا
گھرا ہوا ہوں اندھیروں میں غم نہیں مجھ کو
شبِ سیاہ کے بعد آفتاب دیکھوں گا