Showing posts with label فخر لالہ. Show all posts
Showing posts with label فخر لالہ. Show all posts

Saturday, 9 March 2024

اے عمر رواں گرمئ رفتار کہاں تک

 اے عمرِ رواں گرمئ رفتار کہاں تک

گردِش میں رہیں صورتِ پرکار کہاں تک

پیوندِ جُنوں زینتِ پوشاکِ خِرد ہو

دامن تِرے یوسف کا رہے تار کہاں تک

دریا کو مِلیں بھینٹ میں شہزادیاں لیکن

بدلے میں ہمیں وادئ پُر خار کہاں تک

Wednesday, 24 January 2024

عشق میں کار گزاری سے الجھ بیٹھا تھا

 عشق میں کار گزاری سے اُلجھ بیٹھا تھا

میں کبھی زُلف تمہاری سے الجھ بیٹھا تھا

خُون آلود مناظر سے پتہ چلتا ہے

آج پھر کھیل مداری سے الجھ بیٹھا تھا

اس کی گُفتار سے تحقیر کی بُو آتی تھی 

اس لیے راج کماری سے الجھ بیٹھا تھا

Wednesday, 17 January 2024

دیوار پہ بیٹھا رہوں پر باندھ کے اپنے

دِیوار پہ بیٹھا رہوں پر باندھ کے اپنے

جِیتا ہے کوئی دستِ ہُنر باندھ کے اپنے

اغیار کا لشکر تھا مگر پِچھلی صفوں سے

شمشیر بکف آئے کمر باندھ کے اپنے

مندر کا سہارا تو پُجاری کا دِیا ہے

تُو لے جا بھلے شمس و قمر باندھ کے اپنے

Tuesday, 16 January 2024

یوں دشت خواب سے تعبیر کے سراب لیے

 یوں دشتِ خواب سے تعبیر کے سراب لیے

بہا رہی ہے محبت سرِ چناب دِیے

ہم اہلِ عشق کسی نُور کے تعاقب میں

بس ایک رات کے جیون میں بے حساب جیے

کھڑے ہیں طاقِ گُماں میں بُجھے چراغ کے پاس

سِیہ غُلام ہتھیلی پہ دل گُلاب کیے