اے عمرِ رواں گرمئ رفتار کہاں تک
گردِش میں رہیں صورتِ پرکار کہاں تک
پیوندِ جُنوں زینتِ پوشاکِ خِرد ہو
دامن تِرے یوسف کا رہے تار کہاں تک
دریا کو مِلیں بھینٹ میں شہزادیاں لیکن
بدلے میں ہمیں وادئ پُر خار کہاں تک
اے عمرِ رواں گرمئ رفتار کہاں تک
گردِش میں رہیں صورتِ پرکار کہاں تک
پیوندِ جُنوں زینتِ پوشاکِ خِرد ہو
دامن تِرے یوسف کا رہے تار کہاں تک
دریا کو مِلیں بھینٹ میں شہزادیاں لیکن
بدلے میں ہمیں وادئ پُر خار کہاں تک
عشق میں کار گزاری سے اُلجھ بیٹھا تھا
میں کبھی زُلف تمہاری سے الجھ بیٹھا تھا
خُون آلود مناظر سے پتہ چلتا ہے
آج پھر کھیل مداری سے الجھ بیٹھا تھا
اس کی گُفتار سے تحقیر کی بُو آتی تھی
اس لیے راج کماری سے الجھ بیٹھا تھا
دِیوار پہ بیٹھا رہوں پر باندھ کے اپنے
جِیتا ہے کوئی دستِ ہُنر باندھ کے اپنے
اغیار کا لشکر تھا مگر پِچھلی صفوں سے
شمشیر بکف آئے کمر باندھ کے اپنے
مندر کا سہارا تو پُجاری کا دِیا ہے
تُو لے جا بھلے شمس و قمر باندھ کے اپنے
یوں دشتِ خواب سے تعبیر کے سراب لیے
بہا رہی ہے محبت سرِ چناب دِیے
ہم اہلِ عشق کسی نُور کے تعاقب میں
بس ایک رات کے جیون میں بے حساب جیے
کھڑے ہیں طاقِ گُماں میں بُجھے چراغ کے پاس
سِیہ غُلام ہتھیلی پہ دل گُلاب کیے