آپ ہیں صاحب کرم تنہا
ہم ہیں گرویدۂ ستم تنہا
نہ خوشی ہے نہ آرزوئیں ہیں
ڈستے رہتے ہیں دل کو غم تنہا
ماہِ نو کا جواب ہیں شاید
آپ کی ابروؤں کے خم تنہا
ہمنوا کوئی، کوئی ساتھی ہو
تابکے رہ سکیں گے ہم تنہا
غنچہ و گل میں آج دیکھا ہے
زیست کو ہم نے صبح دم تنہا
ہر خوشی آج ہو گئی رخصت
وجہِ تسکیں ہے ان کا غم تنہا
اے ہجومِ خیال! تیرے نثار
تاج رہتی ہوں میں بھی کم تنہا
تاج النساء تاج
No comments:
Post a Comment