Friday, 5 June 2026

ڈستے رہتے ہیں دل کو غم تنہا

 آپ ہیں صاحب کرم تنہا

ہم ہیں گرویدۂ ستم تنہا

نہ خوشی ہے نہ آرزوئیں ہیں

ڈستے رہتے ہیں دل کو غم تنہا

ماہِ نو کا جواب ہیں شاید

آپ کی ابروؤں کے خم تنہا

ہمنوا کوئی، کوئی ساتھی ہو

تابکے رہ سکیں گے ہم تنہا

غنچہ و گل میں آج دیکھا ہے

زیست کو ہم نے صبح دم تنہا

ہر خوشی آج ہو گئی رخصت

وجہِ تسکیں ہے ان کا غم تنہا

اے ہجومِ خیال! تیرے نثار

تاج رہتی ہوں میں بھی کم تنہا


تاج النساء تاج

No comments:

Post a Comment