کڑوا شربت
اپنے آپ کو نچوڑنا
جیسے انسان لیموں کو نچوڑتا ہے
کڑو اشربت، ایک نظم
تمہیں اس میں کھانڈ نہیں ڈالنی چاہیے
اس کے فائدے کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی
کڑوا شربت
اپنے آپ کو نچوڑنا
جیسے انسان لیموں کو نچوڑتا ہے
کڑو اشربت، ایک نظم
تمہیں اس میں کھانڈ نہیں ڈالنی چاہیے
اس کے فائدے کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی
تیر اور کمان
میں دائرے بناتا ہوں
ایک موٹے برش کے ساتھ
بہت سے رنگوں کے
بس دائرے ہی دائرے
الگ الگ
اور ایک دوسرے میں الجھے ہوئے
سکونت پذیر
ان کو اکثر ستاتی ہے خوش قسمتی
سکونت پذیر ہونے کی
وہ اسکیمیں بناتے ہیں نقل مکانی کی، سفر کی
بدلتے ہیں روز مرہ کے مے خانے کو
تبدیل کرتے ہیں ملازمت کو
نکتہ نظر کو، بیوی کو
مُردے
مُردے میرا راستہ روک لیتے ہیں
میرے گرد گھیرا ڈال دیتے ہیں
مجھے گُھورتے ہیں تاروں جیسے دیدوں سے
جن میں میرے قصور کا
عکس پڑ رہا ہوتا ہے
مگر وہ میرے خلاف کچھ نہیں کرتے
ممتاز عرب شاعرہ کے عربی کلام کا اردو ترجمہ
میں اور کچھ نہیں مانگتی ہوں
سوائے اس کے کہ اپنے وطن میں مروں
اس کی مٹی میں گُھل جاؤں
اس کی گھاس کی کھاد بنوں
ایک پھُول کو زندگی بخشوں
جسے میرے وطن کا بچہ توڑے گا