Showing posts with label منیرالدین احمد. Show all posts
Showing posts with label منیرالدین احمد. Show all posts

Monday, 9 March 2026

کڑو اشربت تمہیں اس میں کھانڈ نہیں ڈالنی چاہیے

 کڑوا شربت


اپنے آپ کو نچوڑنا

جیسے انسان لیموں کو نچوڑتا ہے

کڑو اشربت، ایک نظم

تمہیں اس میں کھانڈ نہیں ڈالنی چاہیے

اس کے فائدے کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی

Wednesday, 30 October 2024

تیر اور کمان میں دائرے بناتا ہوں

 تیر اور کمان


میں دائرے بناتا ہوں

ایک موٹے برش کے ساتھ

بہت سے رنگوں کے

بس دائرے ہی دائرے

الگ الگ

اور ایک دوسرے میں الجھے ہوئے

Sunday, 13 October 2024

سکونت پذیر ان کو اکثر ستاتی ہے خوش قسمتی

 سکونت پذیر


ان کو اکثر ستاتی ہے خوش قسمتی

سکونت پذیر ہونے کی

وہ اسکیمیں بناتے ہیں نقل مکانی کی، سفر کی

بدلتے ہیں روز مرہ کے مے خانے کو

تبدیل کرتے ہیں ملازمت کو

نکتہ نظر کو، بیوی کو

Thursday, 10 October 2024

مردے میرا راستہ روک لیتے ہیں

 مُردے


مُردے میرا راستہ روک لیتے ہیں

میرے گرد گھیرا ڈال دیتے ہیں

مجھے گُھورتے ہیں تاروں جیسے دیدوں سے

جن میں میرے قصور کا

عکس پڑ رہا ہوتا ہے

مگر وہ میرے خلاف کچھ نہیں کرتے

Thursday, 3 October 2024

میں اور کچھ نہیں مانگتی ہوں

 ممتاز عرب شاعرہ کے عربی کلام کا اردو ترجمہ


میں اور کچھ نہیں مانگتی ہوں

سوائے اس کے کہ اپنے وطن میں مروں

اس کی مٹی میں گُھل جاؤں

اس کی گھاس کی کھاد بنوں

ایک پھُول کو زندگی بخشوں

جسے میرے وطن کا بچہ توڑے گا