عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
لولاک زیرِ سایۂ فیضانِ نعت ہے
وجہِ قرار، نِسبتِ دامانِ نعت ہے
نازاں بہارِ خُلد ہے اپنے نصیب پر
فرحاں بفیضِ ثروتِ بارانِ نعت ہے
جو حرفِ کُن ہے باعثِ آغازِ کائنات
مستور اُس میں دعوت و اعلانِ نعت ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
لولاک زیرِ سایۂ فیضانِ نعت ہے
وجہِ قرار، نِسبتِ دامانِ نعت ہے
نازاں بہارِ خُلد ہے اپنے نصیب پر
فرحاں بفیضِ ثروتِ بارانِ نعت ہے
جو حرفِ کُن ہے باعثِ آغازِ کائنات
مستور اُس میں دعوت و اعلانِ نعت ہے
ملے گا اس کا مجھے کیا، اٹھا کے لایا ہوں
پرانے وقت کا سِکہ اٹھا کے لایا ہوں
زمیں کی تشنگی دیکھی نہیں گئی مجھ سے
میں اپنی اوک میں دریا اٹھا کے لایا ہوں
شبِ سیاہ میں کچھ تو مجھے سہولت ہو
کسی کی یاد کا تارا اٹھا کے لایا ہوں
ڈھونڈتی چہرہ کسی دن کھڑکیاں رہ جائیں گی
اور پسِ پردہ تمہاری ہچکیاں رہ جائیں گی
موت اپنے ساتھ لے جائے گی انگلی تھام کر
چاہنے والوں کی پیچھے سسکیاں رہ جائیں گی
اِس بہانے ہی سہی میں یاد آؤں گا تمہیں
فیس بک کی وال پر جو سلفیاں رہ جائیں گی
کس کے پاس سند ہوتی ہے شہزادی
پیار کی کوئی حد ہوتی ہے شہزادی
اس کا سیدھا پاؤں اُلٹا پڑتا ہے
جس کی قسمت بد ہوتی ہے شہزادی
مجھ سے یہ کردار نبھانا مشکل ہے
اِس میں چاہت رد ہوتی ہے شہزادی
بیوپار
لاؤ مجھ کو دکھلاؤ تو
آنکھوں میں ہیں کیسے خواب؟
کچے ہیں یا پکے خواب؟
اچھا ان کے دام بتاؤ
دیکھو اتنا ذہن میں رکھنا
تمہاری قسموں، تمہارے وعدوں کا کیا بنے گا
وہ مل کے مانگی ہوئی مرادوں کا کیا بنے گا
ذرا سی مشکل میں تم جو رستہ بدل رہے ہو
کہ ساتھ جینے کے اُن ارادوں کا کیا بنے گا
برہنہ جسموں کو ڈھانپ رکھا ہے تیرگی نے
سحر جو پھوٹی تو بے لبادوں کا کیا بنے گا
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
ہم فقیروں پہ اگر انؐ کی نظر ہو جائے
عرش کو بھیجی دعاؤں میں اثر ہو جائے
یا الٰہی! میں تو جنت کا طلبگار نہیں
میری قسمت میں مدینے کا سفر ہو جائے
کاش اے کاش کہ پوری ہو تمنا دل کی
عمر یثرب کی فضاؤں میں بسر ہو جائے
گوگل پہ اس کے گاؤں کا نقشہ تو ہے نہیں
رستہ بھی میں نے ٹھیک سے پوچھا تو ہے نہیں
تم کہہ رہے ہو؛ لوٹ کے آیا ہُوا ہے وہ
کھڑکی سے ایک بار بھی جھانکا تو ہے نہیں
گردان آؤ، آؤ، کی کرتا رہا ہوں میں
پنچھی مِری منڈیر پہ اُترا تو ہے نہیں
موت دہليز پر پڑی ہوئی ہے
زندگی سامنے کھڑی ہوئی ہے
درد بانٹے کسی کا کیا کوئی
سب کو اپنی یہاں پڑی ہوئی ہے
آ تو جاتے شمار میں اُس کے
یار چھانٹی بہت کڑی ہوئی ہے
یونہی صاحب کب گھبرانا بنتا ہے
بھوک ستائے جب، گھبرانا بنتا ہے
دیکھو آفت دروازے تک آ پہنچی
یعنی کچھ کچھ اب گھبرانا بنتا ہے
جب منزل کو آدھا رستہ باقی ہو
رہبر بھولے ڈھب، گھبرانا بنتا ہے
تِرے آزار مرتے جا رہے ہیں
مِرے اشعار مرتے جا رہے ہیں
خوشی ناپید ہوتی جا رہی ہے
کہ اب تہوار مرتے جا رہے ہیں
خزائیں بال کھولے ناچتی ہیں
گل و گلزار مرتے جا رہے ہیں
مرتے ہوئے وجود کی حسرت تمام شد
سانسوں سے لپٹی آخری چاہت تمام شد
دستِ قضا بڑھا ہے مِری سمت، الوداع
اے اعتکافِ عشق! عبادت تمام شد
ساقی تمہارے مدھ بھرے ہونٹوں کا شکریہ
بادہ کشی کی ساری حلاوت تمام شد
کہیں تو پھینک ہی دیں گے یہ بار سانسوں کا
اُٹھائے بوجھ جو پھرتے ہیں یار سانسوں کا
انا، غرور، تکبر، حیات کچھ بھی نہیں
کہ سارا کھیل ہے پیارے یہ چار سانسوں کا
چلو یہ زندگی زندہ دلی سے جیتے ہیں
بڑھے گا اس طرح کچھ تو وقار سانسوں کا