Showing posts with label ارشد محمود. Show all posts
Showing posts with label ارشد محمود. Show all posts

Wednesday, 17 January 2024

لولاک زیر سایۂ فیضان نعت ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


لولاک زیرِ سایۂ فیضانِ نعت ہے

وجہِ قرار، نِسبتِ دامانِ نعت ہے

نازاں بہارِ خُلد ہے اپنے نصیب پر

فرحاں بفیضِ ثروتِ بارانِ نعت ہے

جو حرفِ کُن ہے باعثِ آغازِ کائنات

مستور اُس میں دعوت و اعلانِ نعت ہے

Tuesday, 29 November 2022

ملے گا اس کا مجھے کیا اٹھا کے لایا ہوں

 ملے گا اس کا مجھے کیا، اٹھا کے لایا ہوں

پرانے وقت کا سِکہ اٹھا کے لایا ہوں

زمیں کی تشنگی دیکھی نہیں گئی مجھ سے

میں اپنی اوک میں دریا اٹھا کے لایا ہوں

شبِ سیاہ میں کچھ تو مجھے سہولت ہو

کسی کی یاد کا تارا اٹھا کے لایا ہوں

Sunday, 27 November 2022

ڈھونڈتی چہرہ کسی دن کھڑکیاں رہ جائیں گی

 ڈھونڈتی چہرہ کسی دن کھڑکیاں رہ جائیں گی

اور پسِ پردہ تمہاری ہچکیاں رہ جائیں گی

موت اپنے ساتھ لے جائے گی انگلی تھام کر

چاہنے والوں کی پیچھے سسکیاں رہ جائیں گی

اِس بہانے ہی سہی میں یاد آؤں گا تمہیں

فیس بک کی وال پر جو سلفیاں رہ جائیں گی

Friday, 1 April 2022

کس کے پاس سند ہوتی ہے شہزادی

 کس کے پاس سند ہوتی ہے شہزادی

پیار کی کوئی حد ہوتی ہے شہزادی

اس کا سیدھا پاؤں اُلٹا پڑتا ہے

جس کی قسمت بد ہوتی ہے شہزادی

مجھ سے یہ کردار نبھانا مشکل ہے

اِس میں چاہت رد ہوتی ہے شہزادی

Wednesday, 16 February 2022

خوابوں کا بیوپار نہ کرنا

 بیوپار


لاؤ مجھ کو دکھلاؤ تو

آنکھوں میں ہیں کیسے خواب؟

کچے ہیں یا پکے خواب؟

اچھا ان کے دام بتاؤ

دیکھو اتنا ذہن میں رکھنا

Sunday, 6 February 2022

تمہاری قسموں تمہارے وعدوں کا کیا بنے گا

 تمہاری قسموں، تمہارے وعدوں کا کیا بنے گا

وہ مل کے مانگی ہوئی مرادوں کا کیا بنے گا

ذرا سی مشکل میں تم جو رستہ بدل رہے ہو

کہ ساتھ جینے کے اُن ارادوں کا کیا بنے گا

برہنہ جسموں کو ڈھانپ رکھا ہے تیرگی نے

سحر جو پھوٹی تو بے لبادوں کا کیا بنے گا

Monday, 29 November 2021

ہم فقیروں پہ اگر ان کی نظر ہو جائے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


ہم فقیروں پہ اگر انؐ کی نظر ہو جائے

عرش کو بھیجی دعاؤں میں اثر ہو جائے

یا الٰہی! میں تو جنت کا طلبگار نہیں

میری قسمت میں مدینے کا سفر ہو جائے

کاش اے کاش کہ پوری ہو تمنا دل کی

عمر یثرب کی فضاؤں میں بسر ہو جائے

Thursday, 23 September 2021

گوگل پہ اس کے گاؤں کا نقشہ تو ہے نہیں

 گوگل پہ اس کے گاؤں کا نقشہ تو ہے نہیں

رستہ بھی میں نے ٹھیک سے پوچھا تو ہے نہیں

تم کہہ رہے ہو؛ لوٹ کے آیا ہُوا ہے وہ

کھڑکی سے ایک بار بھی جھانکا تو ہے نہیں

گردان آؤ، آؤ، کی کرتا رہا ہوں میں

پنچھی مِری منڈیر پہ اُترا تو ہے نہیں

Wednesday, 22 September 2021

موت دہليز پر پڑی ہوئی ہے

 موت دہليز پر پڑی ہوئی ہے

زندگی سامنے کھڑی ہوئی ہے

درد بانٹے کسی کا کیا کوئی

سب کو اپنی یہاں پڑی ہوئی ہے

آ تو جاتے شمار میں اُس کے

یار چھانٹی بہت کڑی ہوئی ہے

Tuesday, 21 September 2021

یونہی صاحب کب گھبرانا بنتا ہے

 یونہی صاحب کب گھبرانا بنتا ہے

بھوک ستائے جب، گھبرانا بنتا ہے

دیکھو آفت دروازے تک آ پہنچی

یعنی کچھ کچھ اب گھبرانا بنتا ہے

جب منزل کو آدھا رستہ باقی ہو

رہبر بھولے ڈھب، گھبرانا بنتا ہے

Monday, 20 September 2021

ترے آزار مرتے جا رہے ہیں

 تِرے آزار مرتے جا رہے ہیں

مِرے اشعار مرتے جا رہے ہیں

خوشی ناپید ہوتی جا رہی ہے

کہ اب تہوار مرتے جا رہے ہیں

خزائیں بال کھولے ناچتی ہیں

گل و گلزار مرتے جا رہے ہیں

Saturday, 31 July 2021

مرتے ہوئے وجود کی حسرت تمام شد

 مرتے ہوئے وجود کی حسرت تمام شد

سانسوں سے لپٹی آخری چاہت تمام شد

دستِ قضا بڑھا ہے مِری سمت، الوداع

اے اعتکافِ عشق! عبادت تمام شد

ساقی تمہارے مدھ بھرے ہونٹوں کا شکریہ

بادہ کشی کی ساری حلاوت تمام شد

Friday, 26 March 2021

کہیں تو پھینک ہی دیں گے یہ بار سانسوں کا

 کہیں تو پھینک ہی دیں گے یہ بار سانسوں کا

اُٹھائے بوجھ جو پھرتے ہیں یار سانسوں کا

انا، غرور، تکبر، حیات کچھ بھی نہیں

کہ سارا کھیل ہے پیارے یہ چار سانسوں کا

چلو یہ زندگی زندہ دلی سے جیتے ہیں

بڑھے گا اس طرح کچھ تو وقار سانسوں کا