یونہی صاحب کب گھبرانا بنتا ہے
بھوک ستائے جب، گھبرانا بنتا ہے
دیکھو آفت دروازے تک آ پہنچی
یعنی کچھ کچھ اب گھبرانا بنتا ہے
جب منزل کو آدھا رستہ باقی ہو
رہبر بھولے ڈھب، گھبرانا بنتا ہے
رو رو کر فریادی اک فریاد کرے
کان دھرے نا رب، گھبرانا بنتا ہے
اندھی دیوی ہو جائے انصاف کی اور
منصف سی لے لب، گھبرانا بنتا ہے
دن کے سارے کام ادھورے رہتے ہوں
سورج نگلے شب، گھبرانا بنتا ہے
میں نے ارشد ان کی ایک نہ مانی تھی
کہتے تھے جو سب، گھبرانا بنتا ہے
ارشد محمود
No comments:
Post a Comment