Showing posts with label کمال امروہی. Show all posts
Showing posts with label کمال امروہی. Show all posts

Thursday, 1 April 2021

زندگی کا ساز بھی کیا ساز ہے

 فلمی گیت


زندگی کا ساز بھی کیا ساز ہے

بج رہا ہے اور بے آواز ہے

زندگی کا ساز بھی ۔۔۔۔


کوئی نغمہ ہے نہ کوئی ساز ہے

اک تِری اور ایک مِری آواز ہے

زندگی کا ساز بھی کیا ساز ہے

Wednesday, 31 March 2021

دل میں تو آنکھوں میں تو سانسوں میں تو

کلاسیکی فلمی گیت


دل میں تُو آنکھوں میں تُو سانسوں میں تُو

لب پہ تو، خیالوں میں تو خوابوں میں تو

دل میں تو آنکھوں میں تو سانسوں میں تو


کس بات کی انگڑائیاں لیتے ہوئے جلووں میں تو

دوپہر کے جگمگاتے آتشیں شعلوں میں

Tuesday, 30 March 2021

سانوریا سے ہمری ناہیں بنی رے

 فلمی گیت


سانوریا سے ہمری ناہیں بنی رے

بس ایک بات چرنوں میں بچھنے کی کر

میں سو بار سیاں کے پیاں پڑی رے

سانوریا سے ہماری ناہیں بنی رے


میں اجڑی بھی سنوری بھی بگڑی بنی بھی

کہ پاؤں انہیں جیسے ویسے سجی رے

Thursday, 24 December 2015

موسم ہے عاشقانہ

فلمی گیت

موسم ہے عاشقانہ
اے دل کہیں سے ان کو ایسے میں ڈھونڈ لانا

کہنا کہ رُت جواں ہے اور ہم ترس رہے ہیں
کالی گھٹا کے سائے بِرہن کو ڈس رہے ہیں
ڈر ہے نہ مار ڈالے، ساون کا کیا ٹھکانہ
موسم ہے عاشقانہ

کہیں ایک معصوم نازک سی لڑکی

فلمی گیت

کہیں ایک معصوم نازک سی لڑکی
بہت خوبصورت مگر سانولی سی 

مجھے اپنے خوابوں کی بانہوں میں پا کر
کبھی نیند میں مسکراتی تو ہو گی
اسی نیند میں کسمسا کسمسا کر