چل سکی کچھ نہ رہ عشق میں تدبیر مِری
رنگ لاتی رہی ہر گام پہ تقدیر مری
آئینہ کیا ہے فقط حامل عکس جلوہ
ورنہ ہر ذرۂ عالم پہ ہے تصویر مری
راز سے اپنے میں آگاہ نہیں ہوں پھر بھی
جانتا ہوں کہ یہ کونین ہے تفسیر مری
چل سکی کچھ نہ رہ عشق میں تدبیر مِری
رنگ لاتی رہی ہر گام پہ تقدیر مری
آئینہ کیا ہے فقط حامل عکس جلوہ
ورنہ ہر ذرۂ عالم پہ ہے تصویر مری
راز سے اپنے میں آگاہ نہیں ہوں پھر بھی
جانتا ہوں کہ یہ کونین ہے تفسیر مری
حجاب ہم تھے ہمیں سے حجاب ہو کے رہا
ہمارا شوق کسی کا نقاب ہو کے رہا
کمال عشق نے جس دل کو انتخاب کیا
نگاہِ حسن میں وہ انتخاب ہو کے رہا
نظر نظر رخِ ساقی سے فیضیاب ہوئی
نفس نفس کو سرورِ شراب ہو کے رہا
بربادیوں پہ میری کسی کی نظر نہ ہو
دل چاہتا یہ ہے کہ تمہیں بھی خبر نہ ہو
وارفتگان حسن سے اچھا نہیں حجاب
برقِ جمالِ یار حریفِ نظر نہ ہو
یہ بے خودیٔ عشق یہ احساس ہجر یار
ہر صبح آفتاب تو نکلے سحر نہ ہو
مجھ کو دولت ملی تِرے غم کی
کیا حقیقت ہے اب دو عالم کی
میں نے گردن جہاں جہاں خم کی
اک تجلی ہے نورِ پیہم کی
حُسن زینت ہے عہدِ مبہم کی
عشق حُرمت ہے نقشِ محکم کی
دل دکھا تھا مِرا ایسا کہ دکھایا نہ گیا
درد اتنا تھا کہ خود ان سے بڑھایا نہ گیا
بے خود عشق سے پھر ہوش میں آیا نہ گیا
سر جو سجدہ میں جھکایا تو اٹھایا نہ گیا
راز اس پردہ نشیں کا کبھی پایا نہ گیا
محرم راز سے بھی راز بتایا نہ گیا