Showing posts with label بشیر حسین. Show all posts
Showing posts with label بشیر حسین. Show all posts

Monday, 7 March 2022

چل سکی کچھ نہ رہ عشق میں تدبیر مری

 چل سکی کچھ نہ رہ عشق میں تدبیر مِری

رنگ لاتی رہی ہر گام پہ تقدیر مری

آئینہ کیا ہے فقط حامل عکس جلوہ

ورنہ ہر ذرۂ عالم پہ ہے تصویر مری

راز سے اپنے میں آگاہ نہیں ہوں پھر بھی

جانتا ہوں کہ یہ کونین ہے تفسیر مری

Friday, 11 February 2022

حجاب ہم تھے ہمیں سے حجاب ہو کے رہا

 حجاب ہم تھے ہمیں سے حجاب ہو کے رہا

ہمارا شوق کسی کا نقاب ہو کے رہا

کمال عشق نے جس دل کو انتخاب کیا

نگاہِ حسن میں وہ انتخاب ہو کے رہا

نظر نظر رخِ ساقی سے فیضیاب ہوئی

نفس نفس کو سرورِ شراب ہو کے رہا

Sunday, 9 January 2022

بربادیوں پہ میری کسی کی نظر نہ ہو

 بربادیوں پہ میری کسی کی نظر نہ ہو

دل چاہتا یہ ہے کہ تمہیں بھی خبر نہ ہو

وارفتگان حسن سے اچھا نہیں حجاب

برقِ جمالِ یار حریفِ نظر نہ ہو

یہ بے خودیٔ عشق یہ احساس ہجر یار

ہر صبح آفتاب تو نکلے سحر نہ ہو

Saturday, 8 January 2022

مجھ کو دولت ملی ترے غم کی

 مجھ کو دولت ملی تِرے غم کی

کیا حقیقت ہے اب دو عالم کی

میں نے گردن جہاں جہاں خم کی

اک تجلی ہے نورِ پیہم کی

حُسن زینت ہے عہدِ مبہم کی

عشق حُرمت ہے نقشِ محکم کی

Thursday, 30 December 2021

دل دکھا تھا مرا ایسا کہ دکھایا نہ گیا

 دل دکھا تھا مِرا ایسا کہ دکھایا نہ گیا

درد اتنا تھا کہ خود ان سے بڑھایا نہ گیا

بے خود عشق سے پھر ہوش میں آیا نہ گیا

سر جو سجدہ میں جھکایا تو اٹھایا نہ گیا

راز اس پردہ نشیں کا کبھی پایا نہ گیا

محرم راز سے بھی راز بتایا نہ گیا