Sunday, 9 January 2022

بربادیوں پہ میری کسی کی نظر نہ ہو

 بربادیوں پہ میری کسی کی نظر نہ ہو

دل چاہتا یہ ہے کہ تمہیں بھی خبر نہ ہو

وارفتگان حسن سے اچھا نہیں حجاب

برقِ جمالِ یار حریفِ نظر نہ ہو

یہ بے خودیٔ عشق یہ احساس ہجر یار

ہر صبح آفتاب تو نکلے سحر نہ ہو

میری نظر نے حسن کو دلکش بنا دیا

کیا جانے حسن کیا ہو جو میری نظر نہ ہو

رکتے ہیں پاؤں جادۂ کہنہ کو دیکھ کر

اپنی تو راہ وہ ہے جدھر رہگزر نہ ہو

سیر چمن کے واسطے آنکھیں بھی چاہئیں

یہ حسن یہ بہار فریبِ نظر نہ ہو

ہونے کو ہے طلوع مِرا مہر نیم شب

وہ رات کیا بشیر جو خود ہی سحر نہ ہو


بشیر حسین

No comments:

Post a Comment