Sunday, 9 January 2022

اپنی دیوار اپنے در والے

 اپنی دیوار اپنے در والے

ہم صبا زاد تھے سحر والے

یہ اڑانیں پروں پہ لکھی ہیں

ہم پرندے نہیں شجر والے

کھل رہا ہے شگاف صبح فلک

شب کے وقفے نہیں ہیں ڈر والے

کیا خدا آئے گا زمیں پر اب

کھو گئے کس جگہ ہنر والے

مل بھی جاتے تو رک نہیں پاتے

ہم سفر والے تم سفر والے


علی معین

No comments:

Post a Comment