Showing posts with label عاصم رشید. Show all posts
Showing posts with label عاصم رشید. Show all posts

Wednesday, 19 April 2023

دن کے اندر سے جھانکتی ہوئی رات

 ابدی نیند 


دن کے اندر سے جھانکتی ہوئی رات

رات کے پہلو میں چُھپا غم

غم کے اندر ہی کُرلاتا ہوا درد

اور درد کی آخری حد کے پار کھڑی نیند 

ابدی نیند

Monday, 10 April 2023

زمیں ہر شے کو اپنی طرف کھینچتی ہے

 زمیں ہر شے کو اپنی طرف کھینچتی ہے

اس کی قوت سے باہر نکلنا نہیں ہے سہل

پوری قوت سے آسماں کی جانب

اچھالا گیا سنگ بھی

کچھ سمے پرواز کرنے کے بعد

پلٹتا ہے مرکز کی جانب

Wednesday, 22 March 2023

ناچ ہے یارو ننگا ناچ

 ننگا ناچ


دور کہیں جب رات گئے اک کوٹھے پر مجرا کرتے کرتے 

تھک کر عورت گر جاتی ہے

اس کے بعد وہاں ہوتا ہے ننگا ناچ

بند کمرے میں دو عاشق اک بیج محبت کا بوتے ہیں

اس بیج سے بننے والا پودہ جڑیں نکلنے سے پہلے ہی 

Saturday, 4 March 2023

رات بھر ان سے پہلو بچاتے رہے

 رات بھر ان سے پہلو بچاتے رہے

چڑھا دن تو سر کو کھجاتے رہے

ریل تھی نہ ہی پٹڑی نہ کوئی سڑک

بے خیالی میں ہاتھ ہم ہلاتے رہے

ہم کلیجے کو تھامے بلکتے رہے

وہ تیروں کو اپنے چلاتے رہے

Sunday, 6 November 2022

ہم ایک معجزے کے منتظر خلا کو گھورتے رہے

 ‏معجزوں کے منتظر

ہمارے ریوڑوں کو بھیڑیے چیر پھاڑتے رہے

ہمارے کمسنوں کو وحشیوں نے نوچنا شروع کیا

ہماری بہنوں بیٹیوں کی عزتیں لٹیں بھرے بازار میں

اور ہم

ہم ایک معجزے کے منتظر خلا کو گھورتے رہے

Monday, 24 October 2022

مجھے بتا مجھے بتا کہاں ہے تیرا معجزہ

 ‏معجزوں کے منتظر

 

ہمارے ریوڑوں کو بھیڑیے چیر پھاڑتے رہے

ہمارے کمسنوں کو وحشیوں نے نوچنا شروع کیا

ہماری بہنوں بیٹیوں کی عزتیں لٹی بھرے بازار میں

اور ہم

ہم ایک معجزے کے منتظر خلا کو گھورتے رہے

Sunday, 26 June 2022

عجیب بے تکی سی نظم ہے نہیں پڑھو

 بکھرتے خواص 

ہوا ہوا میں گم ہوئی 

ڈھول اپنی تھاپ پر خودی ہوا ہے محوِ رقص 

پانیوں کو دِکھ رہا ہے خود میں صرف اپنا عکس 

قلم سیاہیوں میں ڈوب کر کبھی نہ پھر اُبھر سکا 

شجر تمہارے ہاتھ کا کبھی نہیں اُکھڑ سکا 

Monday, 21 March 2022

اس کو تو میں بھول چکا ہوں

 اس کو تو میں بھول چکا ہوں


وہ اک نظر مجھے دیکھتی تھی 

تو دھڑکنوں میں رِدھم سے بنتے تھے

خون رگوں میں گھنگھرو باندھے 

جھوم جھوم کہ ناچتا تھا

شریانیں پھولے نہیں سماتی تھیں

Monday, 21 February 2022

رب سے مانگ مانگ کے تھک چکا ہوں

 تھکن


سیاہی بھری رات کے آخری دم توڑتے ہوئے پہر میں

سنا ہے خدا خود پکارتا ہے کہ؛

ہے کوئی مانگنے والا

میں ایسے لمحے میں بارہا تم کو 

رب سے مانگ مانگ کے تھک چکا ہوں

Saturday, 1 January 2022

یہاں محبت دماغ کی ہے وہ سائیکالوجی کی طالبہ ہے

 وہ سائیکالوجی کی طالبہ ہے


دلوں میں اٹھتے یہ ہُوک سارے وہ کیسے جانے

اس کے ہاں سب جو بھی ہے بس دماغ ہی ہے

وہ محبت کے سب اصولوں سے غیر واقف

وہ سارا دن بس دماغ پڑھنے میں سر کھپائے

سائنس والا یہ دور ہے جو یہاں ضرورت بھی یہی ہے

Tuesday, 21 December 2021

حیوانوں کی بستی ہے دنیا کتنی سستی ہے

 حیوانوں کی بستی ہے

دنیا کتنی سستی ہے

بچے تک محفوظ نہیں

سوچ کی ایسی پستی ہے

غربت گویا زہر ہے کوئی

جیسے ناگن ڈستی ہے

Wednesday, 15 September 2021

مداوا اس نے دو چار باتیں بھی کیں

 مداوا


اس نے دو چار باتیں بھی کیں 

اور سوری کہا

میری ساری ریاضت کو مٹی کے اندر ملایا

اور چپکے سے منزل کی جانب رواں ہو گئی

بے نشاں ہو گئی