ابدی نیند
دن کے اندر سے جھانکتی ہوئی رات
رات کے پہلو میں چُھپا غم
غم کے اندر ہی کُرلاتا ہوا درد
اور درد کی آخری حد کے پار کھڑی نیند
ابدی نیند
ابدی نیند
دن کے اندر سے جھانکتی ہوئی رات
رات کے پہلو میں چُھپا غم
غم کے اندر ہی کُرلاتا ہوا درد
اور درد کی آخری حد کے پار کھڑی نیند
ابدی نیند
زمیں ہر شے کو اپنی طرف کھینچتی ہے
اس کی قوت سے باہر نکلنا نہیں ہے سہل
پوری قوت سے آسماں کی جانب
اچھالا گیا سنگ بھی
کچھ سمے پرواز کرنے کے بعد
پلٹتا ہے مرکز کی جانب
ننگا ناچ
دور کہیں جب رات گئے اک کوٹھے پر مجرا کرتے کرتے
تھک کر عورت گر جاتی ہے
اس کے بعد وہاں ہوتا ہے ننگا ناچ
بند کمرے میں دو عاشق اک بیج محبت کا بوتے ہیں
اس بیج سے بننے والا پودہ جڑیں نکلنے سے پہلے ہی
رات بھر ان سے پہلو بچاتے رہے
چڑھا دن تو سر کو کھجاتے رہے
ریل تھی نہ ہی پٹڑی نہ کوئی سڑک
بے خیالی میں ہاتھ ہم ہلاتے رہے
ہم کلیجے کو تھامے بلکتے رہے
وہ تیروں کو اپنے چلاتے رہے
معجزوں کے منتظر
ہمارے ریوڑوں کو بھیڑیے چیر پھاڑتے رہے
ہمارے کمسنوں کو وحشیوں نے نوچنا شروع کیا
ہماری بہنوں بیٹیوں کی عزتیں لٹیں بھرے بازار میں
اور ہم
ہم ایک معجزے کے منتظر خلا کو گھورتے رہے
معجزوں کے منتظر
ہمارے ریوڑوں کو بھیڑیے چیر پھاڑتے رہے
ہمارے کمسنوں کو وحشیوں نے نوچنا شروع کیا
ہماری بہنوں بیٹیوں کی عزتیں لٹی بھرے بازار میں
اور ہم
ہم ایک معجزے کے منتظر خلا کو گھورتے رہے
بکھرتے خواص
ہوا ہوا میں گم ہوئی
ڈھول اپنی تھاپ پر خودی ہوا ہے محوِ رقص
پانیوں کو دِکھ رہا ہے خود میں صرف اپنا عکس
قلم سیاہیوں میں ڈوب کر کبھی نہ پھر اُبھر سکا
شجر تمہارے ہاتھ کا کبھی نہیں اُکھڑ سکا
اس کو تو میں بھول چکا ہوں
وہ اک نظر مجھے دیکھتی تھی
تو دھڑکنوں میں رِدھم سے بنتے تھے
خون رگوں میں گھنگھرو باندھے
جھوم جھوم کہ ناچتا تھا
شریانیں پھولے نہیں سماتی تھیں
تھکن
سیاہی بھری رات کے آخری دم توڑتے ہوئے پہر میں
سنا ہے خدا خود پکارتا ہے کہ؛
ہے کوئی مانگنے والا
میں ایسے لمحے میں بارہا تم کو
رب سے مانگ مانگ کے تھک چکا ہوں
وہ سائیکالوجی کی طالبہ ہے
دلوں میں اٹھتے یہ ہُوک سارے وہ کیسے جانے
اس کے ہاں سب جو بھی ہے بس دماغ ہی ہے
وہ محبت کے سب اصولوں سے غیر واقف
وہ سارا دن بس دماغ پڑھنے میں سر کھپائے
سائنس والا یہ دور ہے جو یہاں ضرورت بھی یہی ہے
حیوانوں کی بستی ہے
دنیا کتنی سستی ہے
بچے تک محفوظ نہیں
سوچ کی ایسی پستی ہے
غربت گویا زہر ہے کوئی
جیسے ناگن ڈستی ہے
مداوا
اس نے دو چار باتیں بھی کیں
اور سوری کہا
میری ساری ریاضت کو مٹی کے اندر ملایا
اور چپکے سے منزل کی جانب رواں ہو گئی
بے نشاں ہو گئی