Tuesday, 21 December 2021

حیوانوں کی بستی ہے دنیا کتنی سستی ہے

 حیوانوں کی بستی ہے

دنیا کتنی سستی ہے

بچے تک محفوظ نہیں

سوچ کی ایسی پستی ہے

غربت گویا زہر ہے کوئی

جیسے ناگن ڈستی ہے

محبت کی پوشاک تلے

محض ہوس پرستی ہے

نام نہاد عزت ہے باقی

بیٹی ایک زبردستی ہے

گل روند دئیے جاتے ہیں

گلشن پر آگ برستی ہے

آئے دن کوئی زینب

غنڈوں میں جا پھنستی ہے

حاکم کی ہے اونچی عمارت

محکوم پہ دنیا ہنستی ہے

ہم پر رحم فرما مولا

اونچی تیری ہستی ہے


عاصم رشید

No comments:

Post a Comment