حیوانوں کی بستی ہے
دنیا کتنی سستی ہے
بچے تک محفوظ نہیں
سوچ کی ایسی پستی ہے
غربت گویا زہر ہے کوئی
جیسے ناگن ڈستی ہے
محبت کی پوشاک تلے
محض ہوس پرستی ہے
نام نہاد عزت ہے باقی
بیٹی ایک زبردستی ہے
گل روند دئیے جاتے ہیں
گلشن پر آگ برستی ہے
آئے دن کوئی زینب
غنڈوں میں جا پھنستی ہے
حاکم کی ہے اونچی عمارت
محکوم پہ دنیا ہنستی ہے
ہم پر رحم فرما مولا
اونچی تیری ہستی ہے
عاصم رشید
No comments:
Post a Comment