شان نیاز عشق دکھاتے چلے گئے
ہم بتکدوں کو کعبہ بناتے چلے گئے
دیتا ہے کون بادۂ سرجوش بے طلب؟
ان کا کرم کہ جام بڑھاتے چلے گئے
میں جلوہ جلوہ کچھ انہیں پہچانتا گیا
وہ پردہ پردہ سامنے آتے چلے گئے
شان نیاز عشق دکھاتے چلے گئے
ہم بتکدوں کو کعبہ بناتے چلے گئے
دیتا ہے کون بادۂ سرجوش بے طلب؟
ان کا کرم کہ جام بڑھاتے چلے گئے
میں جلوہ جلوہ کچھ انہیں پہچانتا گیا
وہ پردہ پردہ سامنے آتے چلے گئے
چھپ سکی نہ دل کی بات آپ کے چھپانے سے
کچھ نظر سے سمجھے ہم، کچھ نظر چرانے سے
ترکِ دوستداری کا کیا گلہ کہ وہ بھی ایک
رسم تھی زمانے کی اٹھ گئی زمانے سے
اس خوشی کو لے کر بھی کیا کرے گا دیوانے
جس خوشی کی راہوں میں غم نہیں زمانے سے
ایک مجبور تہہ دام بلا کیا کرتا
نہ تڑپتا تو تڑپنے کے سوا کیا کرتا
غیر پابندئ آئینِ وفا کیا کرتا
میری تقلید کوئی میرے سوا کیا کرتا
چارہ گر کو مِرے احباب نہ بدنام کریں
لا دوا درد کی بے چارہ دوا کیا کرتا
نکلے تھے آج گھر سے بڑے اہتمام سے
دو چار گام بھی نہ بڑھے راہِ عام سے
یہ کہہ کے ہم نے جام لبوں سے لگا لیا
جتنی حرام ہو وہ چھلک جائے جام سے
کل جن کو ہم سمجھتے تھے یارانِ با صفا
دل کانپ کانپ اُٹھتا ہے آج ان کے نام سے
پا کر مزاجِ یار کچھ اپنی طرف جھُکا ہُوا
میں نے کہا زہے نصیب، دل نے کہا بُرا ہوا
نقشِ سجُود تو کہاں ناصیۂ نیاز میں
ایک نشان رہ گیا داغِ سِیہ بنا ہوا
آپ کا دورِ عافیت اور یہ تباہ کاریاں
کام کسی کا بھی سہی نام تو آپ کا ہوا