Showing posts with label ناطق مالوی. Show all posts
Showing posts with label ناطق مالوی. Show all posts

Friday, 11 September 2026

شان نیاز عشق دکھاتے چلے گئے

 شان نیاز عشق دکھاتے چلے گئے

ہم بتکدوں کو کعبہ بناتے چلے گئے

دیتا ہے کون بادۂ سرجوش بے طلب؟

ان کا کرم کہ جام بڑھاتے چلے گئے

میں جلوہ جلوہ کچھ انہیں پہچانتا گیا

وہ پردہ پردہ سامنے آتے چلے گئے

Tuesday, 17 March 2026

چھپ سکی نہ دل کی بات آپ کے چھپانے سے

 چھپ سکی نہ دل کی بات آپ کے چھپانے سے

کچھ نظر سے سمجھے ہم، کچھ نظر چرانے سے

ترکِ دوستداری کا کیا گلہ کہ وہ بھی ایک

رسم تھی زمانے کی اٹھ گئی زمانے سے

اس خوشی کو لے کر بھی کیا کرے گا دیوانے

جس خوشی کی راہوں میں غم نہیں زمانے سے

Thursday, 14 November 2024

ایک مجبور تہہ دام بلا کیا کرتا

 ایک مجبور تہہ دام بلا کیا کرتا

نہ تڑپتا تو تڑپنے کے سوا کیا کرتا

غیر پابندئ آئینِ وفا کیا کرتا

میری تقلید کوئی میرے سوا کیا کرتا

چارہ گر کو مِرے احباب نہ بدنام کریں

 لا دوا درد کی بے چارہ دوا کیا کرتا

Tuesday, 3 September 2024

نکلے تھے آج گھر سے بڑے اہتمام سے

 نکلے تھے آج گھر سے بڑے اہتمام سے

دو چار گام بھی نہ بڑھے راہِ عام سے

یہ کہہ کے ہم نے جام لبوں سے لگا لیا

جتنی حرام ہو وہ چھلک جائے جام سے

کل جن کو ہم سمجھتے تھے یارانِ با صفا

دل کانپ کانپ اُٹھتا ہے آج ان کے نام سے

Sunday, 1 September 2024

پا کر مزاج یار کچھ اپنی طرف جھکا ہوا

 پا کر مزاجِ یار کچھ اپنی طرف جھُکا ہُوا

میں نے کہا زہے نصیب، دل نے کہا بُرا ہوا

نقشِ سجُود تو کہاں ناصیۂ نیاز میں

ایک نشان رہ گیا داغِ سِیہ بنا ہوا

آپ کا دورِ عافیت اور یہ تباہ کاریاں

کام کسی کا بھی سہی نام تو آپ کا ہوا