تھرتھراتے ہیں دمِ گُفتار ہونٹ
ہیں تِرے انکار کا انکار ہونٹ
اپنی قاتل کاوِشوں پر نیم وا
سُرخیوں میں غرق وہ خمدار ہونٹ
ہم کو اُلجھا جائیں رنگیں دائرے
پھونکتے ہیں جانے کیا پرکار ہونٹ
تھرتھراتے ہیں دمِ گُفتار ہونٹ
ہیں تِرے انکار کا انکار ہونٹ
اپنی قاتل کاوِشوں پر نیم وا
سُرخیوں میں غرق وہ خمدار ہونٹ
ہم کو اُلجھا جائیں رنگیں دائرے
پھونکتے ہیں جانے کیا پرکار ہونٹ
دل پگھل جانے دو، جذبات سُلگ لینے دو
آج خود کو بھی مِرے سات سلگ لینے دو
اور کچھ دیر رہو میری دسترس میں اَبھی
اور کچھ دیر مِرے ہات سلگ لینے دو
جُنبشِ لب سے کہیں ٹوٹ نہ جائے منظر
زیرِ لب پیار کے نغمات سلگ لینے دو
جھٹک زنجیرِ زر، سونے کے زندانوں سے آ جا
تجھے اُلفت کی چھت دوں گا، تُو ایوانوں سے آ جا
مِری شیریں! تُو مجھ سے مل، میں ہُوں تکمیل تیری
نکل کر تُو وفا کے خام افسانوں سے آ جا
یقیں آنے کا ہو اور آئے تُو تو لُطف کیسا
تُو آ جانے کے ان موہوم اِمکانوں سے آ جا
کسی دن
سنو
میں کسی دن سناؤں گا تم کو
یہاں مجھ پہ دن رات کیا بیتتی ہے
سو اس دن ذرا اپنا دل تھام رکھنا
دِیوں کو جلا کر
سرِ بام رکھنا
یہ میرے رخ پہ کھنچی ہے جو خامشی کی لکیر
دہن نہیں ہے، یہ ہے ضبط و بے بسی کی لکیر
تبھی تو ہاتھ کسی کے بھی کچھ نہیں آتا
کہ ہاتھ بھر ہی تو ہوتی ہے زندگی کی لکیر
تمہاری یاد کا پَل ہے ستارۂ دُم دار
ابھی بھی دل کے فلک پر ہے روشنی کی لکیر
فاصلے اور بڑھا دینے کی کوشش نہیں کی
صرف چاہا تھا اُسے، اُس کی پرستش نہیں کی
اُس نے جاتے ہوئے کھائی تھی انا کی سوگندھ
پھر تو اشکوں نے بھی کچھ میری سفارش نہیں کی
ہیر کی قبر پہ بھی ہجر کا سایہ ہی رہا
میرے گھر پر بھی کبھی ابر نے بارش نہیں کی
یہ کس طرح کے ملے خواب میں اِشارے مجھے
وہ جیسے دُور بہت دُور سے پُکارے مجھے
تم اس کو میری ضرورت کہو یا ضد کہہ لو
بگڑ گیا ہوں، کوئی آن کے سنوارے مجھے
میں کر چکا ہوں محبت کے نام سے توبہ
میں مر چکا ہوں، کوئی دار سے اتارے مجھے
ارے سن رہی ہو
کہاں رہ گئی ہو
ذرا ایک اچھی
الائچی کی خوشبو سے مہکی ہوئی
تازہ دم، گرم سی
مجھ کو چائے پلا دو
اسے عنوان کیا دینا
الاؤ جل رہے تھے اور عکسِ آتشِ خونیں
کسی بدمست ناگن کی طرح
بھیگی ہوئی بے چین آنکھوں
زرد سے چہروں پہ لہراتا، لپکتا تھا
سفر کتنے نجانے نامکمل تھے
سچی عدالتوں کی کہانی بھی جھوٹ ہے
اور قاتلوں کی آنکھ کا پانی بھی جھوٹ ہے
یاروں کی دو رخی کا عبث غم ہو جان پر
ہے وقت وہ کہ دشمنِ جانی بھی جھوٹ ہے
افراطِ زر کی کہنہ کہانی جو خام تھی
پھر جنس کی یہ تازہ گرانی بھی جھوٹ ہے