Showing posts with label بہزاد برہم. Show all posts
Showing posts with label بہزاد برہم. Show all posts

Wednesday, 13 April 2022

تھرتھراتے ہیں دم گفتار ہونٹ

 تھرتھراتے ہیں دمِ گُفتار ہونٹ

ہیں تِرے انکار کا انکار ہونٹ

اپنی قاتل کاوِشوں پر نیم وا

سُرخیوں میں غرق وہ خمدار ہونٹ

ہم کو اُلجھا جائیں رنگیں دائرے

پھونکتے ہیں جانے کیا پرکار ہونٹ

Sunday, 26 September 2021

دل پگھل جانے دو جذبات سلگ لینے دو

 دل پگھل جانے دو، جذبات سُلگ لینے دو

آج خود کو بھی مِرے سات سلگ لینے دو

اور کچھ دیر رہو میری دسترس میں اَبھی

اور کچھ دیر مِرے ہات سلگ لینے دو

جُنبشِ لب سے کہیں ٹوٹ نہ جائے منظر

زیرِ لب پیار کے نغمات سلگ لینے دو

Saturday, 25 September 2021

جھٹک زنجیر زر سونے کے زندانوں سے آ جا

جھٹک زنجیرِ زر، سونے کے زندانوں سے آ جا

تجھے اُلفت کی چھت دوں گا، تُو ایوانوں سے آ جا

مِری شیریں! تُو مجھ سے مل، میں ہُوں تکمیل تیری

نکل کر تُو وفا کے خام افسانوں سے آ جا

یقیں آنے کا ہو اور آئے تُو تو لُطف کیسا 

تُو آ جانے کے ان موہوم اِمکانوں سے آ جا

Friday, 24 September 2021

میں کسی دن سناؤں گا تم کو

 کسی دن


سنو

میں کسی دن سناؤں گا تم کو

یہاں مجھ پہ دن رات کیا بیتتی ہے

سو اس دن ذرا اپنا دل تھام رکھنا

دِیوں کو جلا کر

سرِ بام رکھنا

Thursday, 23 September 2021

یہ میرے رخ پہ کھنچی ہے جو خامشی کی لکیر

 یہ میرے رخ پہ کھنچی ہے جو خامشی کی لکیر

دہن نہیں ہے، یہ ہے ضبط و بے بسی کی لکیر

تبھی تو ہاتھ کسی کے بھی کچھ نہیں آتا

کہ ہاتھ بھر ہی تو ہوتی ہے زندگی کی لکیر

تمہاری یاد کا پَل ہے ستارۂ دُم دار

ابھی بھی دل کے فلک پر ہے روشنی کی لکیر

Wednesday, 22 September 2021

فاصلے اور بڑھا دینے کی کوشش نہیں کی

فاصلے اور بڑھا دینے کی کوشش نہیں کی

صرف چاہا تھا اُسے، اُس کی پرستش نہیں کی

اُس نے جاتے ہوئے کھائی تھی انا کی سوگندھ

پھر تو اشکوں نے بھی کچھ میری سفارش نہیں کی

ہیر کی قبر پہ بھی ہجر کا سایہ ہی رہا

میرے گھر پر بھی کبھی ابر نے بارش نہیں کی

Monday, 20 September 2021

یہ کس طرح کے ملے خواب میں اشارے مجھے

 یہ کس طرح کے ملے خواب میں اِشارے مجھے

وہ جیسے دُور بہت دُور سے پُکارے مجھے

تم اس کو میری ضرورت کہو یا ضد کہہ لو

بگڑ گیا ہوں، کوئی آن کے سنوارے مجھے

میں کر چکا ہوں محبت کے نام سے توبہ

میں مر چکا ہوں، کوئی دار سے اتارے مجھے

Sunday, 19 September 2021

مجھ کو چائے پلا دو

ارے سن رہی ہو

کہاں رہ گئی ہو

ذرا ایک اچھی

الائچی کی خوشبو سے مہکی ہوئی

تازہ دم، گرم سی

مجھ کو چائے پلا دو

Saturday, 18 September 2021

کہو پھر رات کے جاگے کہاں سر رکھ کے سو جاتے

 اسے عنوان کیا دینا


الاؤ جل رہے تھے اور عکسِ آتشِ خونیں

کسی بدمست ناگن کی طرح

بھیگی ہوئی بے چین آنکھوں

زرد سے چہروں پہ لہراتا، لپکتا تھا

سفر کتنے نجانے نامکمل تھے

Friday, 1 January 2021

سچی عدالتوں کی کہانی بھی جھوٹ ہے

 سچی عدالتوں کی کہانی بھی جھوٹ ہے

اور قاتلوں کی آنکھ کا پانی بھی جھوٹ ہے

یاروں کی دو رخی کا عبث غم ہو جان پر

ہے وقت وہ کہ دشمنِ جانی بھی جھوٹ ہے

افراطِ زر کی کہنہ کہانی جو خام تھی

پھر جنس کی یہ تازہ گرانی بھی جھوٹ ہے