مرگ دھرنا
تفنگ کو قلم پہ فوقیت ملے تو جان لو یہ ریاست مریض ہے
ستمگروں کے راج میں ستم زدوں پہ احتجاج فرض ہے
یہ جانتے ہوئے کہ رونے والوں کو حق نہیں ملتا
چیخ لازم ہے بہرحال
اپنے بچوں کے قتل پر ماؤں کی مانگ کچھ نہیں ہوتی
مرگ دھرنا
تفنگ کو قلم پہ فوقیت ملے تو جان لو یہ ریاست مریض ہے
ستمگروں کے راج میں ستم زدوں پہ احتجاج فرض ہے
یہ جانتے ہوئے کہ رونے والوں کو حق نہیں ملتا
چیخ لازم ہے بہرحال
اپنے بچوں کے قتل پر ماؤں کی مانگ کچھ نہیں ہوتی
نُور مزدور
رُدالیو
شہرِ تِیرہ کے باسیو
ترک کر دو یہ اشکباری کی عادت
جان لو
شہرِ تاریک میں ممنوع ہے روشنی
کہ یہی رسم روا ہے
کارل مارکس
بـے بسی کی گُفاؤں میں بیٹھے
اِن غلاموں کی یہی فطرت ہے
زندگی بھر یہ دوزخی رہ کر
اِس خواہش کا بُت بناتے ہیں
موت کے بعد جئیں جنت میں
بیٹھ کر سامنے سدا بُت کے
بودا
اگر بزدل کو طاقت مل گئی سمجھو
وہ ہر کمزور کو بے وجہ روندے گا
وہ اپنے خوف کو دائم جبر کی چادر سے ڈھانپے گا
اور سچ کو جھوٹ کی چابک سے ہانکے گا
کبھی دیکھو اگر ریاست
نہتے پُر امن بچوں پہ مظالم ڈھا رہی ہے
حیات
لاش اب تک صلیب پر ہے
یسوعؑ کے ہاتھوں میں پیوست میخوں سے
خون اب تک ٹپک رہا ہے
جوان بیٹوں کی موت پر ان سِسکتی ماؤں کی
گُنگ آنکھوں کی چیخ سُن لو
تو بی بی مریمؑ کا کرب کیا تھا، سمجھ سکو گے
سفر صحرائی طوفاں میں گِھرا ہے، لا پتا ہے
بشر اپنی ڈگر سے ہٹ گیا ہے، لا پتا ہے
طویل اک راستہ جس پر دھویں کا سلسلہ ہے
وہاں حدِ نظر جو فاصلہ ہے، لا پتا ہے
نظر دوڑاؤ تو اک دوڑ ہے جو بے اماں ہے
وہ اک ٹھہراؤ سے جو واسطہ ہے، لا پتا ہے