Showing posts with label عمران ثاقب. Show all posts
Showing posts with label عمران ثاقب. Show all posts

Tuesday, 10 February 2026

جان لو یہ ریاست مریض ہے

 مرگ دھرنا


تفنگ کو قلم پہ فوقیت ملے تو جان لو یہ ریاست مریض ہے

ستمگروں کے راج میں ستم زدوں پہ احتجاج فرض ہے

یہ جانتے ہوئے کہ رونے والوں کو حق نہیں ملتا

چیخ لازم ہے بہرحال

اپنے بچوں کے قتل پر ماؤں کی مانگ کچھ نہیں ہوتی

Friday, 13 June 2025

نور مزدور ردالیو شہر تیرہ کے باسیو

 نُور مزدور


رُدالیو

شہرِ تِیرہ کے باسیو

ترک کر دو یہ اشکباری کی عادت

جان لو

شہرِ تاریک میں ممنوع ہے روشنی

کہ یہی رسم روا ہے

Monday, 5 May 2025

کارل مارکس بـے بسی کی گفاؤں میں بیٹھے

 کارل مارکس


بـے بسی کی گُفاؤں میں بیٹھے

اِن غلاموں کی یہی فطرت ہے

زندگی بھر یہ دوزخی رہ کر

اِس خواہش کا بُت بناتے ہیں

موت کے بعد جئیں جنت میں

بیٹھ کر سامنے سدا بُت کے

Monday, 21 October 2024

اگر بزدل کو طاقت مل گئی سمجھو

 بودا


اگر بزدل کو طاقت مل گئی سمجھو

وہ ہر کمزور کو بے وجہ روندے گا

وہ اپنے خوف کو دائم جبر کی چادر سے ڈھانپے گا

اور سچ کو جھوٹ کی چابک سے ہانکے گا

کبھی دیکھو اگر ریاست 

نہتے پُر امن بچوں پہ مظالم ڈھا رہی ہے

Thursday, 3 October 2024

لاش اب تک صلیب پر ہے

 حیات


لاش اب تک صلیب پر ہے

یسوعؑ کے ہاتھوں میں پیوست میخوں سے

خون اب تک ٹپک رہا ہے

جوان بیٹوں کی موت پر ان سِسکتی ماؤں کی 

گُنگ آنکھوں کی چیخ سُن لو

تو بی بی مریمؑ کا کرب کیا تھا، سمجھ سکو گے

Saturday, 11 September 2021

سفر صحرائی طوفاں میں گھرا ہے لا پتا ہے

 سفر صحرائی طوفاں میں گِھرا ہے، لا پتا ہے

بشر اپنی ڈگر سے ہٹ گیا ہے، لا پتا ہے

طویل اک راستہ جس پر دھویں کا سلسلہ ہے

وہاں حدِ نظر جو فاصلہ ہے، لا پتا ہے

نظر دوڑاؤ تو اک دوڑ ہے جو بے اماں ہے

وہ اک ٹھہراؤ سے جو واسطہ ہے، لا پتا ہے