Saturday, 11 September 2021

سفر صحرائی طوفاں میں گھرا ہے لا پتا ہے

 سفر صحرائی طوفاں میں گِھرا ہے، لا پتا ہے

بشر اپنی ڈگر سے ہٹ گیا ہے، لا پتا ہے

طویل اک راستہ جس پر دھویں کا سلسلہ ہے

وہاں حدِ نظر جو فاصلہ ہے، لا پتا ہے

نظر دوڑاؤ تو اک دوڑ ہے جو بے اماں ہے

وہ اک ٹھہراؤ سے جو واسطہ ہے، لا پتا ہے

ہجوم اک منتشر ریوڑ کی طرح چل رہا ہے

کہ ان میں سمت کا جو سوچتا ہے، لا پتا ہے

وہ جن کی رُوح جڑ سے مر چکی ہے پِھر رہے ہیں

جو خود میں دفن ہو کر جی اُٹھا ہے، لا پتا ہے

دعا امراء کی بر آتی ہے مانگے سے بھی پہلے

زمیں پر جو غریبوں کا خدا ہے، لا پتا ہے

جہل بازار میں سب جُھوٹ کے گاہک ہیں ثاقب

جو اس ماحول میں سچ بولتا ہے، لا پتا ہے


عمران ثاقب

No comments:

Post a Comment