محبت کے علاقے میں کئی آزار ملتے ہیں
تڑپتا ہے یہ دل تنہا، کہاں غم خوار ملتے ہیں
مسافر ہیں اور اک خانہ بدوشی ہے مقدر میں
کبھی اِس پار ملتے ہیں کبھی اُس پار ملتے ہیں
نیا کچھ بھی نہیں ہے سب پرانے طور گلشن کے
گلوں کے ساتھ پہلے کی طرح سے خار ملتے ہیں
کہاں وہ پُر سکوں بستی جہاں پر چین ملتا تھا
یہاں شام و سحر وحشت زدہ آثار ملتے ہیں
رکوں تو شہر میں ہر شخص کو خوابیدہ پاؤں میں
چلوں تو راستے میں لوگ سب بیدار ملتے ہیں
اگر سمجھو تو یہ کچھ کم غنیمت ہے
کسی نقطے پہ جا کر تو تِرے افکار ملتے ہیں
یہ کیوں اندر کا موسم اور ہے باہر کے موسم سے
کہ جب رونق ہے ہر شۓ پر تو ہم بیزار ملتے ہیں
صبیحہ صبا
No comments:
Post a Comment