یہ بات یہاں کی ہے نہ یہ بات وہاں کی
دلدادہ ہوں بچپن سے ہی میں اردو زباں کی
ہم شعر کہا کرتے ہیں غم اور خوشی کے
باتیں نہیں کرتے ہیں فقط باغِ جِناں کی
دنیا کے حوادث ہمیں سونے نہیں دیتے
"دل درد سے بوجھل ہو تو پھر نیند کہاں کی"
یہ بات یہاں کی ہے نہ یہ بات وہاں کی
دلدادہ ہوں بچپن سے ہی میں اردو زباں کی
ہم شعر کہا کرتے ہیں غم اور خوشی کے
باتیں نہیں کرتے ہیں فقط باغِ جِناں کی
دنیا کے حوادث ہمیں سونے نہیں دیتے
"دل درد سے بوجھل ہو تو پھر نیند کہاں کی"
میں تیرا ہوں یہ کب جتایا کسی نے
میں روٹھی رہی کب منایا کسی نے
مجھے اب کسی پر بھروسہ نہیں ہے
محبت ہے دھوکہ سکھایا کسی نے
کہاں تھا یہ ممکن کہ جیتے کوٸی بھی
کہ اپنا بنا کے ہرایا کسی نے
میں تیرے عشق کا کامل نصاب ہو جاؤں
ہر اک سوال کا عمدہ جواب ہو جاؤں
کبھی تو چُھو مجھے اپنے حسین ہاتھوں سے
میں تِرے لمس کو پا کر گُلاب ہو جاؤں
پیے تُو جام سے ساغر سے یا پیالے سے
رہے تُو تشنہ، میں ایسی شراب ہو جاؤں
کشمیر
آج کیا ہو گا
چند ریلیاں نکلیں گی
چند نعرے گونجیں گے
منصب رسم زباں ادا کریں گے
دعویدار بنا محسوس کیے ہی چنگ و آہ کریں گے
کوئی پرچم کشاں کرے گا