Showing posts with label سلمیٰ جہاں. Show all posts
Showing posts with label سلمیٰ جہاں. Show all posts

Tuesday, 19 May 2026

یہ بات یہاں کی ہے نہ یہ بات وہاں کی

 یہ بات یہاں کی ہے نہ یہ بات وہاں کی 

دلدادہ ہوں بچپن سے ہی میں اردو زباں کی 

ہم شعر کہا کرتے ہیں غم اور خوشی کے

باتیں نہیں کرتے ہیں فقط باغِ جِناں کی

دنیا کے حوادث ہمیں سونے نہیں دیتے

"دل درد سے بوجھل ہو تو پھر نیند کہاں کی"

Thursday, 13 February 2025

میں تیرا ہوں یہ کب جتایا کسی نے

 میں تیرا ہوں یہ کب جتایا کسی نے 

میں روٹھی رہی کب منایا کسی نے

مجھے اب کسی پر بھروسہ نہیں ہے 

محبت ہے دھوکہ سکھایا کسی نے 

کہاں تھا یہ ممکن کہ جیتے کوٸی بھی 

کہ اپنا بنا کے ہرایا کسی نے

Tuesday, 11 June 2024

میں تیرے عشق کا کامل نصاب ہو جاؤں

 میں تیرے عشق کا کامل نصاب ہو جاؤں

ہر اک سوال کا عمدہ جواب ہو جاؤں 

کبھی تو چُھو مجھے اپنے حسین ہاتھوں سے

میں تِرے لمس کو پا کر گُلاب ہو جاؤں 

پیے تُو جام سے ساغر سے یا پیالے سے

رہے تُو تشنہ، میں ایسی شراب ہو جاؤں

Saturday, 19 March 2022

کشمیر کوئی تو سرا پکڑے دوڑ کو سلجھائے

کشمیر

 

آج کیا ہو گا

چند ریلیاں نکلیں گی 

چند نعرے گونجیں گے 

منصب رسم زباں ادا کریں گے 

دعویدار بنا محسوس کیے ہی چنگ و آہ کریں گے 

کوئی پرچم کشاں کرے گا