Tuesday, 19 May 2026

یہ بات یہاں کی ہے نہ یہ بات وہاں کی

 یہ بات یہاں کی ہے نہ یہ بات وہاں کی 

دلدادہ ہوں بچپن سے ہی میں اردو زباں کی 

ہم شعر کہا کرتے ہیں غم اور خوشی کے

باتیں نہیں کرتے ہیں فقط باغِ جِناں کی

دنیا کے حوادث ہمیں سونے نہیں دیتے

"دل درد سے بوجھل ہو تو پھر نیند کہاں کی"

جن کو نہیں منظور مِرا بزم میں رہنا

 تعریف کریں وہ بھی مِرے طرزِ بیاں کی

ہوتا ہے جہاں ذکر کبھی شعر و سخن کا

کرتے ہیں وہاں بات سبھی سلما جہاں کی 


سلمہ جہاں

سلمیٰ جہاں

No comments:

Post a Comment