یہ بات یہاں کی ہے نہ یہ بات وہاں کی
دلدادہ ہوں بچپن سے ہی میں اردو زباں کی
ہم شعر کہا کرتے ہیں غم اور خوشی کے
باتیں نہیں کرتے ہیں فقط باغِ جِناں کی
دنیا کے حوادث ہمیں سونے نہیں دیتے
"دل درد سے بوجھل ہو تو پھر نیند کہاں کی"
جن کو نہیں منظور مِرا بزم میں رہنا
تعریف کریں وہ بھی مِرے طرزِ بیاں کی
ہوتا ہے جہاں ذکر کبھی شعر و سخن کا
کرتے ہیں وہاں بات سبھی سلما جہاں کی
سلمہ جہاں
سلمیٰ جہاں
No comments:
Post a Comment