Sunday, 10 May 2026

وقت پھیلا گیا غبار تو پھر

 وقت پھیلا گیا غُبار تو پھر؟

تم بھی غم کا ہوئے شکار تو پھر

کثرتِ گُل سے شاخ ہی ٹُوٹے

بوجھ بن جائیں برگ و بار تو پھر

کیوں مسلتے ہو روندتے ہو پُھول

رُوٹھ جائے اگر بہار تو پھر

تارے گِننے سے رات کٹتی ہے؟

زخمِ دل ہوں جو بے شمار تو پھر

کُچھ تو پہلے ہی غم نصیب ہیں ہم

وہ بھی نکلا سِتم شعار تو پھر

آبلے پُھوٹ پُھوٹ کر روئیں

پانی پانی اگر ہوں خار تو پھر

زاہد! کیا تِرا اجارہ ہے

بخشے جائیں گناہگار تو پھر

چاہتے ٹُوٹ کر ہو تم ساجد

اُس کو آئے نہ اعتبار تو پھر


شریف ساجد

No comments:

Post a Comment