ہے بہار زندگانی چند روز
رونقِ عہدِ جوانی چند روز
رنج و غم میں زندگی ساری کٹی
پر نہ دیکھی شادمانی چند روز
جب کیے ہم پر کیے جور و ستم
کہ نہ تم نے مہربانی چند روز
غرّۂ منصب نہ ہو اے بے خبر
ہے یہ عیش و کامرانی چند روز
دل نہ دنیا میں لگانا چاہیے
ہے یہاں کی میہمانی چند روز
عشق کا انجام آئے گا نظر
گر رہی یہ جانفشانی چند روز
ہے غنیمت مشرقی مرنے کے بعد
گر رہے باقی کہانی چند روز
سردار گنڈا سنگھ مشرقی
No comments:
Post a Comment