قد بڑا ہوتا نہیں ہے طرۂ دستار سے
آدمی ہوتا ہے اُونچا عظمتِ کردار سے
اس کے جاتے ہی مِرے گھر پر اُداسی چھا گئی
دیر تک رویا لپٹ کر میں در و دیوار سے
رازِ سر بستہ سے رفتہ رفتہ پردہ اُٹھ گیا
کُھلتے کُھلتے کُھل گیا دل کا بھرم اشعار سے
شہر میں تو اب گرانی کا یہ عالم ہے کہ ہم
لوٹ کر آتے ہیں خالی ہاتھ ہی بازار سے
پھیر لے گا منہ وہ لُٹتے کارواں کو دیکھ کر
یہ توقع تو نہیں تھی قافلہ سالار سے
اس کی باتوں سے تو، میرا غم سوا ہونے لگا
پڑ گیا ہے واسطہ، کیسے عجب غمخوار سے
اس سے بڑھ کر اور بھی کوئی ستم ہو گا نواز
یار کو غیروں سے رغبت، ہم کو نسبت یار سے
شاہنواز سواتی
No comments:
Post a Comment