Friday, 1 May 2026

ہماری آرزو تم ہو ہمارا مدعا تم ہو

 پری تم ہو مری جاں حور تم ہو مہ لقا تم ہو

جہاں میں جتنے ہیں معشوق ان سب سے جدا تم ہو

سراپا ناز ہو لاکھوں میں یکتا دل ربا تم ہو

میں حیراں ہوں سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ کیا تم ہو

خدا نے اپنے ہاتھوں سے تمہیں ایسا بنایا ہے

خدا کی شان بھی کہتی ہے ہاں شان خدا تم ہو

نہ بولو کاروان زندگی اب لٹنے والا ہے

چلو اس طرح سے گویا درائے بے صدا تم ہو

تمہارا مرتبہ اللہ اکبر کیا ٹھکانا ہے

تمہیں جتنا میں سمجھا ہوں کہیں اس سے سوا تم ہو

تمہاری بے رخی کا بھی معمہ حل نہیں ہوتا

کہ عالم آشنا ہو اور پھر نا آشنا تم ہو

مبارک منعموں کو دولت دنیا ہو عالم میں

ہماری آرزو تم ہو، ہمارا مدعا تم ہو

ہر اک غمزہ تمہارا عاشقوں کو ذبح کرتا ہے

کہ خوش انداز ہو خوش ناز ہو اور خوش ادا تم ہو

ہمیں دونوں سے ہے مربوط عشق و حسن کا عالم

کہ اس کی ابتدا میں ہوں اور اس کی انتہا تم ہو

تمہیں سے کشتیٔ جان حزیں آئے گی ساحل تک

محیط عشق میں اے حضرت دل ناخدا تم ہو

مے و معشوق سے کیا بات کچھ مطلب نہیں رکھتے

بتاؤ تو کہاں کے صبر ایسے پارسا تم ہو


ابوالبقاء منشی ثناء احمد

صبر و عصر سہارنپوری

No comments:

Post a Comment