جہاں سے دوشِ عزیزاں پہ بار ہو کے چلے
یہ سُوئے مُلکِ عدم شرمسار ہو کے چلے
ہمارے دیکھنے کو خُوش ابھی سے ہیں اعداء
ذرا نہ دیکھ سکے،۔ اشکبار ہو کے چلے
پہنچ ہی جاؤ گے مے خانہ میں خضر تم بھی
ہمارے ساتھ جو یاروں کے یار ہو کے چلے
تمہاری رہ کا رہا ہم کو ہر طرف دھوکا
چلے جدھر کو سو بے اختیار ہو کے چلے
ثناء نگار یہ ہے کس کے خلق کا عارف
قلم ورق پہ نہ کیوں اشکبار ہو کے چلے
زین العابدین عارف
No comments:
Post a Comment