Thursday, 21 May 2026

فاصلے رکھ کر کبھی یوں درمیاں ملتا نہ تھا

 فاصلے رکھ کر کبھی یوں درمیاں مِلتا نہ تھا

شہر کے لوگوں سے اس کا تب کوئی رشتہ نہ تھا

وہ بکھر جاتا تھا ہر سُو ایک خُوشبو کی طرح

میں جُدائی کے شجر پر اس طرح جلتا نہ تھا

زخم کب کے بھر چکے ہیں اس کی یادوں کے مگر

میں لِپٹ کر اس طرح خُود سے کبھی روتا نہ تھا

وہ لچکتی بیل سا رہتا تھا شانے پر مِرے

قُربتوں کی بھیڑ میں ظالم مگر کُھلتا نہ تھا

وہ حقارت سے مجھے ٹھُکرا کے خُوش تو تھا مگر

میں بھی اپنے ظرف کے آگے کبھی جھُکتا نہ تھا

تیز جھونکا سا گُزر جاتا تھا دل کے صحن سے

وہ مِری صُورت مِرے احساس میں ڈھلتا نہ تھا


پنڈت سریندر سوز

No comments:

Post a Comment