Tuesday, 12 May 2026

گیلی لکڑی کو سلگا کر اشکوں سے عرضی لکھوں گا

 گیلی لکڑی کو سلگا کر اشکوں سے عرضی لکھوں گا

آج دھوئیں کے بادل پر میں بارش کو چٹھی لکھوں گا

اس زنداں کے کچھ قیدی ہی میری بات سمجھ پائیں گے

جب پتھر کی دیواروں پر مٹی سے مٹی لکھوں گا

مجھ جیسے کچھ دیوانے ہی زندہ دل ہوتے ہیں صاحب

میں اتنا کمزور نہیں جو پنکھا اور رسی لکھوں گا

کب تک گھر میں بیٹھے بیٹھے اپنے دل کے چھالے پھوڑوں

اب تو ان تپتی سڑکوں پر آوارہ گردی لکھوں گا

ہم دونوں ہی اپنی اپنی فطرت کے مارے انساں ہیں

تو مجھ میں خامی ڈھونڈے گا میں تیری خوبی لکھوں گا

کچھ ایسے تحریر کروں گا اک مصرعے میں دو افسانے

دریا کو ساحل لکھوں گا طوفاں کو کشتی لکھوں گا


شاہنواز انصاری

No comments:

Post a Comment