Monday, 11 May 2026

میں نے گناہ ایک بھی تنہا نہیں کیا

سارے جہاں کو میں نے اکٹھا نہیں کِیا

بس صبر کر لیا ہے، تماشہ نہیں کیا

دُنیا مجھے فریب تو دیتی رہی، مگر

میں نے کسی کے ساتھ بھی دھوکا نہیں کیا

اُس کو بھی میرے ساتھ عدالت میں لائیے

میں نے گُناہ ایک بھی تنہا نہیں کیا

میرے ہی انتخاب میں تھوڑی کمی رہی

میں نے ہی کام ہوش میں اپنا نہیں کیا

جو بات دل میں تھی وہ زباں پر بھی آ گئی

میں نے کسی بھی طرح دِکھاوا نہیں کیا

اس کی مِرے خیال میں کچھ اور ہے طلب

جس نے مِری وفا پہ بھروسہ نہیں کیا

وہ بات ہے عجیب سی برہم جو کر گئی

اسلم نے یوں ہی قطع یہ رشتہ نہیں کیا


ڈاکٹر محمد اسلم پرویز

No comments:

Post a Comment