کیسی بے بس تنہائی نے گھیر لیا ہے راتوں کو
اپنی قسمت کون کہ جس سے کہیے دل کی باتوں کو
گرتی بلڈنگ، بہتی لاشیں، اکھڑے پیڑ، پرندے بے گھر
کون ہے جو مطلوب نہیں ان شِدت کی برساتوں کو
شاید یہ اک بات ہی میرے حق میں فالِ نیک ہوئی
تجھ سے مِل کر بھُول گیا ہوں سارے رشتے ناتوں کو
بھیک میں اپنی جان سی شے بھی میں نے کبھی منظور نہ کی
میری انا نے ٹھُکرایا ہے ساری ہی خیراتوں کو
رنگ دھنک کے دیکھ لیے تھے میں نے تیری آنکھوں میں
دُور تلک اس دل میں میں نے پھیلایا ان ساتوں کو
تڑپ رہا تھا پیاس سے لیکن دُور ہی مجھ سے برسی ہیں
کوئی عناد شفیق تھا مجھ سے شاید ان برساتوں کو
سید شفیق عباس
No comments:
Post a Comment