Friday, 8 May 2026

خطا کو کب اہل کرم دیکھتے ہیں

 خطا کو کب اہلِ کرم دیکھتے ہیں

ہنرمند عیبوں کو کم دیکھتے ہیں

جو اہلِ ہُنر ہیں، ہنر دیکھتے ہیں

نہ دولت نہ جاہ و حشم دیکھتے ہیں

کھنچی آج تیغِ دو دم دیکھتے ہیں

ہے سر کس کا ہوتا قلم دیکھتے ہیں

ہمیں تھے کہ آ گئے ان کے دم میں

کسے آج دیتے ہیں دم دیکھتے ہیں

رقیبوں کی مانند گستاخ کب ہیں

تیرے ہم ہمیشہ قدم دیکھتے ہیں

جو ہیں لے گئے ساتھ دنیا کی حسرت

وہ کیا سیرِ ملکِ عدم دیکھتے ہیں

تماشائے ہر دو جہاں پی کے ساغر

اگر دیکھتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں


سردار گنڈا سنگھ مشرقی

No comments:

Post a Comment