کمان ابروئے خمدار تان رکھی ہے
نجانے یار نے کیا دل میں ٹھان رکھی ہے
سجے ہیں قتل کے ساماں ادھر سلیقے سے
ادھر کسی نے ہتھیلی پہ جان رکھی ہے
رہ وفا کے ہر اک سنگ و خار پر ہم نے
جگر کے خون سے لکھ داستان رکھی ہے
ہمارے جذبہ و ایثار میں وہ دم خم ہے
پروں بغیر بھی اونچی اڑان رکھی ہے
خیالِ یار کی خوشبو سنھبال کر ہم نے
مشام جاں میں بصد آن بان رکھی ہے
ہمیں لبھائیں گے کیا چار سو چمکتے سراب
کہ ہم نے ریت یہ صحرا کی چھان رکھی ہے
ہزار جبر و ستم سہہ کے سادھ لی چپ کیوں
سعید بول کہ منہ میں زبان رکھی ہے
سعید ناز
No comments:
Post a Comment