Monday, 4 May 2026

نجانے یار نے کیا دل میں ٹھان رکھی ہے

 کمان ابروئے خمدار تان رکھی ہے

نجانے یار نے کیا دل میں ٹھان رکھی ہے

سجے ہیں قتل کے ساماں ادھر سلیقے سے

ادھر کسی نے ہتھیلی پہ جان رکھی ہے

رہ وفا کے ہر اک سنگ و خار پر ہم نے

جگر کے خون سے لکھ داستان رکھی ہے

ہمارے جذبہ و ایثار میں وہ دم خم ہے

پروں بغیر بھی اونچی اڑان رکھی ہے

خیالِ یار کی خوشبو سنھبال کر ہم نے

مشام جاں میں بصد آن بان رکھی ہے

ہمیں لبھائیں گے کیا چار سو چمکتے سراب

کہ ہم نے ریت یہ صحرا کی چھان رکھی ہے

ہزار جبر و ستم سہہ کے سادھ لی چپ کیوں

سعید بول کہ منہ میں زبان رکھی ہے


سعید ناز 

No comments:

Post a Comment