چند لمحے مجھ سے ملنے آ گیا
شعلۂ چاہت کو کچھ بھڑکا گیا
میرا غم تو بڑھ گیا ہے اور تُو
اپنی دانست میں مجھے بہلا گیا
اپنی قسمت پر نہ ہو نازاں رہے
چاہنے والا کہ جو چاہا گیا
چند لمحے مجھ سے ملنے آ گیا
شعلۂ چاہت کو کچھ بھڑکا گیا
میرا غم تو بڑھ گیا ہے اور تُو
اپنی دانست میں مجھے بہلا گیا
اپنی قسمت پر نہ ہو نازاں رہے
چاہنے والا کہ جو چاہا گیا
نظم "نیوکلیر وِنٹر" سے اقتباس
مگر اس مقامِ عذابِ المناک پر
نطقِ گویا کو لازم ہے اظہارِ حق کے لیے
صوتِ جادو اثر لا مکاں کے الُوہی ترنم سے مانگے
بیاضِ ازل سے کوئی حرفِ کُن ڈھونڈ لائے
جو ممکن ہو تو شاخِ زیتوں سے کلکِ ایمن تراشے
کہ لوحِ بقاء پر زمیں کے مقدر کی تحریر پھر سے نہ اُتری
میں درد ہوں ہزار میرے رنگ روپ ہیں
زخمِ جگر میں ہوں، میں کبھی چشمِ میں ہوں
کہنے کو ساحلوں کو مناظر ہیں سامنے
میں پھر بھی اپنی سوچ کے اندھے بھنور میں ہوں
مجھ کو مسافتوں کی تھکن زیر کر نہ جائے
شب کا سفر ہے، اور تلاشِ سحر میں ہوں
نظم "اہلِ زمین کے نام" سے اقتباس
اگر ہمارے رنگ اور ہمارے نام ایک سے نہیں تو کیا؟
اگر ہماری سرزمیں بانٹ دی گئی تو کیا؟
اگر ہمارے سر پہ آسماں کے سائِباں کی دھجیاں اڑیں تو کیا ہوا؟
سنو ہم ایک ہیں
ہم ایک ہیں ہم ایک تھے مگر نہ جانے کیسے
کب ہمارے چار سُو حصارِ درد کون چُن گیا؟
نظم "شناخت" سے اقتباس
یہ نسلِ آدم مرا گھرانہ، یہ کرۂ ارض گھر ہے میرا، مِرا وطن کائنات ہے
کائنات کے صد ہزار جلووں میں ایک میں بھی
بنانے والے کی جنبشِ مؤ قلم کا ادنیٰ سا معجزہ ہوں
مِرا حوالہ اس ایک فنکار کا حوالہ
جو سب میں ظاہر، جو سب میں پنہاں
نبُود و بُود ہست و نیست جس کے