نظم "شناخت" سے اقتباس
یہ نسلِ آدم مرا گھرانہ، یہ کرۂ ارض گھر ہے میرا، مِرا وطن کائنات ہے
کائنات کے صد ہزار جلووں میں ایک میں بھی
بنانے والے کی جنبشِ مؤ قلم کا ادنیٰ سا معجزہ ہوں
مِرا حوالہ اس ایک فنکار کا حوالہ
جو سب میں ظاہر، جو سب میں پنہاں
نبُود و بُود ہست و نیست جس کے
بنانے والا، مٹانے والا
مِرا حوالہ اس ایک فنکار کا حوالہ
میں اپنے خود ساختہ خداؤں کو کیسے اس کا شریک کر لوں
جو سب کا مالک، جو سب کا خالق، جو سب سے اعلیٰ
نزہت صدیقی
سبحان اللّٰہ ❤️ ماشاءاللہ
ReplyDeleteبہت خوب، واہ۔