خُوشبو رہی چمن میں نہ وہ رنگ رہ گیا
تُربت یہ گُل کی، خار کا سرہنگ رہ گیا
ہو لب پہ رام رام، بغل میں چُھری رہے
جینے کا اس جہاں میں یہی ڈھنگ رہ گیا
ہر سنگ بھاری ہوتا ہے اپنے مقام پر
انساں خلا میں پہنچا تو پا سنگ رہ گیا
خُوشبو رہی چمن میں نہ وہ رنگ رہ گیا
تُربت یہ گُل کی، خار کا سرہنگ رہ گیا
ہو لب پہ رام رام، بغل میں چُھری رہے
جینے کا اس جہاں میں یہی ڈھنگ رہ گیا
ہر سنگ بھاری ہوتا ہے اپنے مقام پر
انساں خلا میں پہنچا تو پا سنگ رہ گیا
کھلیں گلاب تو آنکھیں کھلیں اچنگ چلے
پون چلے تو مہک اس کے سنگ سنگ چلے
ہے میرا سوچ سفر فلسفے کے صحرا میں
ہوا کے دوش پہ جیسے کٹی پتنگ چلے
کسی کا ہو کے کوئی کس طرح رہے اپنا
رہِ سلوک پہ جیسے کوئی ملنگ چلے
سید فخرالدین بلے کا رنگ
سات زمینیں، سات فلک، ہیں سات دھنک کے رنگ
سات ُسروں کی سنگیتا ہے، سرگم ہفت آہنگ
سَا، رے، گا، ما، پا، دھا، نی، دَھا، پا، ما، گا، رے، سا، رنگ
لاکھ چوبیس ہزار سجیلے لے کے آئے رنگ
رنگینی پر مہاراجﷺ کو رب نے دی فرہنگ
اک دروازہ سات جھروکے مولا ہفت اورنگ
سالگرہ کا تحفہ
میں تِری سالگرہ پر اے دوست
یہ بتا کون سا تحفہ بھیجوں
میری خواہش تو یہی ہے کہ تِری دعوت پر
سر کے بل چل کے میں خود جاؤں جنم دن پہ تِرے
ایک دلہن کی طرح تجھ کو سجانے کے لیے
تیری خوابیدہ امنگوں کو جگانے کے لیے
آنچ ہم آنے کبھی دیں گے نہ پاکستان پر
پی رہے تھے حق کے متوالے شہادت کے سبو
راہِ حق میں جان دے کر ہو رہے تھے سرخرو
سر زمینِ پاک کے جانباز، حق کے پاسباں
پڑھ رہے تھے کلمۂ حق خون سے کر کے وضو
حق کی خاطر کھیل جائیں گے ہم اپنی جان پر
ہے چبھن مستقل قرار کے ساتھ
پھول ڈالی پہ جیسے خار کے ساتھ
میرے گھر میں بھی کہکشاں کی طرح
ربط قائم ہے انتشار کے ساتھ
صبح کا انتظار ہے، لیکن
بے یقینی ہے اعتبار کے ساتھ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حسینؑ ہی کی ضرورت تھی کربلا کے لیے
الٰہی! کون مٹا دِین کی بقا کے لیے؟
یہ کس نے جامِ شہادت پیا وفا کے لیے
یہ کس نے کر دیا قربان گھر کا گھر اپنا
یہ کس نے جان لُٹا دی تِری رضا کے لیے
حسینؑ ہی کی ضرورت تھی کربلا کے لیے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مِرا سفینۂ ایماں ہے، ناخدا بھی علیؑ
مِری نماز علیؑ ہے، مری دعا بھی علیؑ
وجود و واجد و موجود و ماجرا بھی علیؑ
شہود و شاہد و مشہود و اشتہا بھی علیؑ
ہے قصد و قاصد و مقصود و اقتضا بھی علیؑ
رضا و راضی، رضی اور مرتضیٰؑ بھی علیؑ
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت نزولِ قرآن
چار سُو جلوۂ لَولَاکَ لَما رقص میں ہے
والقلم! سلسلۂ ارض و سما رقص میں ہے
لیلۃ القدر میں خورشید بکف ہے جبریلؑ
جبل النُور پہ خود نُورِ ہدیٰ رقص میں ہے
صبحِ تہذیبِ طریقت کی اذاں سے پہلے
ہمہ تن کارگہِ قدر و قضا رقص میں ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہے خوفِ خدا انؐ کو خدا کہہ نہیں سکتے
کچھ اور مگر اس کے سوا کہہ نہیں سکتے
اِلّا کو اگر لا سے جدا کہہ نہیں سکتے
حق بات بہ اندازِ ثناء کہہ نہیں سکتے
وہ ذات جو مطلوب ہے، طالب بھی، طلب بھی
کہنا جو اسے چاہیں تو کیا کہہ نہیں سکتے
آگ
قرآں سے دھواں سا اٹھتا ہے اور عرشِ بریں تھرّاتا ہے
اللہ! وفورِ غیرت سے نبیوںؑ کو پسینہ آتا ہے
وہ قبلۂ اول منزل تھی، معراج کی شب جو احمدﷺ کی
وہ مسجدِ اقصیٰ جلتی ہے، ایمان شہادت پاتا ہے
وہ تین سو تیرہ تھے جن سے تقدیرِ اُمم تھرّاتی تھی
ہم پون ارب ہیں جن کا سر ہر گام پہ جُھکتا جاتا ہے
خدا سے روزِ ازل کس نے اختلاف کیا
وہ آدمی تو نہ تھا، جس نے انحراف کیا
میں کیا بتاؤں کہ قلب و نظر پہ کیا گزری
کِرن نے قطرۂ شبنم میں جب شگاف کیا
وہی تو ہوں میں کہ جس کے وجود سے پہلے
خود اپنے رب سے فرشتوں نے اختلاف کیا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اول و آخر، رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم
حُسنِ سراپا، عشقِ مجسّم صلی اللہ علیہ وسلم
مظہرِ نُورِ ذاتِ الٰہی، سرِ علوم و رازِ خُدائی
ہادیٔ بر حق، رہبرِ اعظم، صلی اللہ علیہ وسلم
رُوئے منور، سیرتِ اطہر، شافعِ محشر، ساقئ کوثر
تم ہو جمالِ روحِ مکرّم، صلی اللہ علیہ وسلم
عارفانہ کلام حمد نعت مقبت
اول و آخر رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم
حسنِ سراپا عشقِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم
مظہرِ نورِ ذاتِ الٰہی، سرِ علوم و راز خدائی
ہادئ بر حق رہبرِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم
روئے منور، سیرتِ اطہر شافعِ محشر ساقئ کوثر
تم ہو جمالِ روحِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
منقبت بر مولا علیؑ
مِرا سفینۂ ایماں ہے، ناخدا بھی علیؑ
مِری نماز علیؑ ہے، مِری دعا بھی علیؑ
وجود و واجد و موجود و ماجرا بھی علیؑ
شہود و شاہد و مشہود و اشتہا بھی علیؑ
ہے قصد و قاصد و مقصود و اقتضا بھی علیؑ
رضا و راضی، رضی اور مرتضیٰؑ بھی علیؑ
ہے آب آب موج بپھرنے کے باوجود
دنیا سمٹ رہی ہے بکھیرنے کے باوجود
راہِ فنا پہ لوگ سدا گامزن رہے
ہر ہر نفس پہ موت سے ڈرنے کے باوجود
اس بحرِ کائنات میں ہر کشتئ انا
غرقاب ہو گئی ہے ابھرنے کے باوجود
کِھل کے گُل بن گئی کلی چُپ چاپ
اک قیامت گُزر گئی چپ چاپ
ہم نے گردُوں پہ خون دیکھا ہے
لوگ کہتے ہیں پو پھٹی چپ چاپ
سوچ کے آسماں سے اُتری ہے
دل کے آنگن میں چاندنی چپ چاپ
مٹی کا قرض
اس دھرتی کی ہر شے پر ہے اس مٹی کا قرض
میرے لیے ہے فرض سے پہلے اس مٹی کا قرض
کیوں نہ دھرتی سیوا کر کے خون پسینہ بوئیں
ممکن ہے کچھ کم ہو جائے اس مٹی کا قرض
اک مُدت سے دیکھ رہی ہیں میری بھیگی آنکھیں
بڑھ جاتا ہے جب مینہ برسے اس مٹی کا قرض
انا کا علم ضروری ہے بندگی کے لیے
خود آگہی کی ضرورت ہے بیخودی کے لیے
کسی نے توڑ دیا دل کو دل لگی کے لیے
کوئی تڑپتا رہا عمر بھی کسی کے لیے
زمیں پہ اہلِ نظر، آسمان پر تارے
تمام رات تڑپتے ہیں روشنی کے لیے
ہم آج تک نہ ہو سکے جمہوریت شعار
ہوتی رہی ہے فوج مشرف بہ اقتدار
خوفِ خزاں ہے کوئی نہ اندیشۂ بہار
ہے دستِ بے حساں میں گلستاں کا کاروبار
سب جانتے ہیں کس لیے باقی نہیں رہا
عمّال پر بھروسہ، عدالت پہ اعتبار