Showing posts with label فخرالدین بلے. Show all posts
Showing posts with label فخرالدین بلے. Show all posts

Thursday, 7 March 2024

خوشبو رہی چمن میں نہ وہ رنگ رہ گیا

 خُوشبو رہی چمن میں نہ وہ رنگ رہ گیا

تُربت یہ گُل کی، خار کا سرہنگ رہ گیا

ہو لب پہ رام رام، بغل میں چُھری رہے

جینے کا اس جہاں میں یہی ڈھنگ رہ گیا

ہر سنگ بھاری ہوتا ہے اپنے مقام پر

انساں خلا میں پہنچا تو پا سنگ رہ گیا

Wednesday, 4 October 2023

کھلیں گلاب تو آنکھیں کھلیں اچنگ چلے

 کھلیں گلاب تو آنکھیں کھلیں اچنگ چلے

پون چلے تو مہک اس کے سنگ سنگ چلے

ہے میرا سوچ سفر فلسفے کے صحرا میں

ہوا کے دوش پہ جیسے کٹی پتنگ چلے

کسی کا ہو کے کوئی کس طرح رہے اپنا

رہِ سلوک پہ جیسے کوئی ملنگ چلے

Sunday, 1 October 2023

سات زمینیں سات فلک ہیں سات دھنک کے رنگ

 سید فخرالدین بلے کا رنگ


سات زمینیں، سات فلک، ہیں سات دھنک کے رنگ

سات ُسروں کی سنگیتا ہے، سرگم ہفت آہنگ

سَا، رے، گا، ما، پا، دھا، نی، دَھا، پا، ما، گا، رے، سا، رنگ

لاکھ چوبیس ہزار سجیلے لے کے آئے رنگ

رنگینی پر مہاراجﷺ کو رب نے دی فرہنگ

اک دروازہ سات جھروکے مولا ہفت اورنگ

Tuesday, 15 August 2023

میں تری سالگرہ پر اے دوست یہ بتا کون سا تحفہ بھیجوں

 سالگرہ کا تحفہ


میں تِری سالگرہ پر اے دوست

یہ بتا کون سا تحفہ بھیجوں

میری خواہش تو یہی ہے کہ تِری دعوت پر

سر کے بل چل کے میں خود جاؤں جنم دن پہ تِرے

ایک دلہن کی طرح تجھ کو سجانے کے لیے

تیری خوابیدہ امنگوں کو جگانے کے لیے

Monday, 14 August 2023

آنچ ہم آنے کبھی دیں گے نہ پاکستان پر

 ​آنچ ہم آنے کبھی دیں گے نہ پاکستان پر


پی رہے تھے حق کے متوالے شہادت کے سبو

راہِ حق میں جان دے کر ہو رہے تھے سرخرو

سر زمینِ پاک  کے جانباز، حق کے پاسباں

پڑھ رہے تھے کلمۂ حق خون سے کر کے وضو


حق کی خاطر کھیل جائیں گے ہم اپنی جان پر

Friday, 11 August 2023

ہے چبھن مستقل قرار کے ساتھ

 ہے چبھن مستقل قرار کے ساتھ

پھول ڈالی پہ جیسے خار کے ساتھ

میرے گھر میں بھی کہکشاں کی طرح

ربط قائم ہے انتشار کے ساتھ

صبح کا انتظار ہے، لیکن

بے یقینی ہے اعتبار کے ساتھ

Wednesday, 19 July 2023

حسین ہی کی ضرورت تھی کربلا کے لیے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


حسینؑ ہی کی ضرورت تھی کربلا کے لیے

الٰہی! کون مٹا دِین کی بقا کے لیے؟

یہ کس نے جامِ شہادت پیا وفا کے لیے

یہ کس نے کر دیا قربان گھر کا گھر اپنا

یہ کس نے جان لُٹا دی تِری رضا کے لیے

حسینؑ ہی کی ضرورت تھی کربلا کے لیے

Friday, 7 July 2023

مرا سفینۂ ایماں ہے ناخدا بھی علی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مِرا سفینۂ ایماں ہے، ناخدا بھی علیؑ

مِری نماز علیؑ ہے، مری دعا بھی علیؑ

وجود و واجد و موجود و ماجرا بھی علیؑ

شہود و شاہد و مشہود و اشتہا بھی علیؑ

ہے قصد و قاصد و مقصود و اقتضا بھی علیؑ

رضا و راضی، رضی اور مرتضیٰؑ بھی علیؑ

Tuesday, 4 July 2023

چار سو جلوۂ لولاک لما رقص میں ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت نزولِ قرآن


چار سُو جلوۂ لَولَاکَ لَما رقص میں ہے

والقلم! سلسلۂ ارض و سما رقص میں ہے

لیلۃ القدر میں خورشید بکف ہے جبریلؑ

جبل النُور پہ خود نُورِ ہدیٰ رقص میں ہے

صبحِ تہذیبِ طریقت کی اذاں سے پہلے

ہمہ تن کارگہِ قدر و قضا رقص میں ہے

Sunday, 2 July 2023

ہے خوف خدا ان کو خدا کہہ نہیں سکتے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہے خوفِ خدا انؐ کو خدا کہہ نہیں سکتے

کچھ اور مگر اس کے سوا کہہ نہیں سکتے

اِلّا کو اگر لا سے جدا کہہ نہیں سکتے

حق بات بہ اندازِ ثناء کہہ نہیں سکتے

وہ ذات جو مطلوب ہے، طالب بھی، طلب بھی

کہنا جو اسے چاہیں تو کیا کہہ نہیں سکتے

Tuesday, 27 June 2023

قرآں سے دھواں سا اٹھتا ہے اور عرش بریں تھراتا ہے

 آگ


قرآں سے دھواں سا اٹھتا ہے اور عرشِ بریں تھرّاتا ہے

اللہ! وفورِ غیرت سے نبیوںؑ کو پسینہ آتا ہے

وہ قبلۂ اول منزل تھی، معراج کی شب جو احمدﷺ کی

وہ مسجدِ اقصیٰ جلتی ہے، ایمان شہادت پاتا ہے

وہ تین سو تیرہ تھے جن سے تقدیرِ اُمم تھرّاتی تھی

ہم پون ارب ہیں جن کا سر ہر گام پہ جُھکتا جاتا ہے

Saturday, 17 June 2023

خدا سے روز ازل کس نے اختلاف کیا

 خدا سے روزِ ازل کس نے اختلاف کیا

وہ آدمی تو نہ تھا، جس نے انحراف کیا

میں کیا بتاؤں کہ قلب و نظر پہ کیا گزری

کِرن نے قطرۂ شبنم میں جب شگاف کیا

وہی تو ہوں میں کہ جس کے وجود سے پہلے

خود اپنے رب سے فرشتوں نے اختلاف کیا

Thursday, 15 June 2023

اول و آخر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اول و آخر، رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم

حُسنِ سراپا، عشقِ مجسّم صلی اللہ علیہ وسلم

مظہرِ نُورِ ذاتِ الٰہی، سرِ علوم و رازِ خُدائی

ہادیٔ بر حق، رہبرِ اعظم، صلی اللہ علیہ وسلم

رُوئے منور، سیرتِ اطہر، شافعِ محشر، ساقئ کوثر

تم ہو جمالِ روحِ مکرّم، صلی اللہ علیہ وسلم

Saturday, 6 May 2023

اول و آخر رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت


اول و آخر رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم

حسنِ سراپا عشقِ مجسم صلی اللہ علیہ وسلم

مظہرِ نورِ ذاتِ الٰہی، سرِ علوم و راز خدائی

ہادئ بر حق رہبرِ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم

روئے منور، سیرتِ اطہر شافعِ محشر ساقئ کوثر

تم ہو جمالِ روحِ مکرم صلی اللہ علیہ وسلم

Wednesday, 12 April 2023

مرا سفینۂ ایماں ہے ناخدا بھی علی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت

منقبت بر مولا علیؑ


مِرا سفینۂ ایماں ہے، ناخدا بھی علیؑ

مِری نماز علیؑ ہے، مِری دعا بھی علیؑ

وجود و واجد و موجود و ماجرا بھی علیؑ

شہود و شاہد و مشہود و اشتہا بھی علیؑ

ہے قصد و قاصد و مقصود و اقتضا بھی علیؑ

رضا و راضی، رضی اور مرتضیٰؑ بھی علیؑ

Monday, 11 October 2021

ہے آب آب موج بپھرنے کے باوجود

 ہے آب آب موج بپھرنے کے باوجود

دنیا سمٹ رہی ہے بکھیرنے کے باوجود

راہِ فنا پہ لوگ سدا گامزن رہے

ہر ہر نفس پہ موت سے ڈرنے کے باوجود

اس بحرِ کائنات میں ہر کشتئ انا

غرقاب ہو گئی ہے ابھرنے کے باوجود

Saturday, 9 October 2021

کھل کے گل بن گئی کلی چپ چاپ

 کِھل کے گُل بن گئی کلی چُپ چاپ

اک قیامت گُزر گئی چپ چاپ

ہم نے گردُوں پہ خون دیکھا ہے

لوگ کہتے ہیں پو پھٹی چپ چاپ

سوچ کے آسماں سے اُتری ہے

دل کے آنگن میں چاندنی چپ چاپ

Friday, 8 October 2021

اس دھرتی کی ہر شے پر ہے اس مٹی کا قرض

مٹی کا قرض


 اس دھرتی کی ہر شے پر ہے اس مٹی کا قرض

میرے لیے ہے فرض سے پہلے اس مٹی کا قرض

کیوں نہ دھرتی سیوا کر کے خون پسینہ بوئیں

ممکن ہے کچھ کم ہو جائے اس مٹی کا قرض

اک مُدت سے دیکھ رہی ہیں میری بھیگی آنکھیں

بڑھ جاتا ہے جب مینہ برسے اس مٹی کا قرض

انا کا علم ضروری ہے بندگی کے لئے

 انا کا علم ضروری ہے بندگی کے لیے

خود آگہی کی ضرورت ہے بیخودی کے لیے

کسی نے توڑ دیا دل کو دل لگی کے لیے

کوئی تڑپتا رہا عمر بھی کسی کے لیے

زمیں پہ اہلِ نظر، آسمان پر تارے

تمام رات تڑپتے ہیں روشنی کے لیے

Thursday, 7 October 2021

ہم آج تک نہ ہو سکے جمہوریت شعار

 ہم آج تک نہ ہو سکے جمہوریت شعار

ہوتی رہی ہے فوج مشرف بہ اقتدار

خوفِ خزاں ہے کوئی نہ اندیشۂ بہار

ہے دستِ بے حساں میں گلستاں کا کاروبار

سب جانتے ہیں کس لیے باقی نہیں رہا

عمّال پر بھروسہ، عدالت پہ اعتبار