انا کا علم ضروری ہے بندگی کے لیے
خود آگہی کی ضرورت ہے بیخودی کے لیے
کسی نے توڑ دیا دل کو دل لگی کے لیے
کوئی تڑپتا رہا عمر بھی کسی کے لیے
زمیں پہ اہلِ نظر، آسمان پر تارے
تمام رات تڑپتے ہیں روشنی کے لیے
میں کس سے پوچھوں کہ پھولوں نے کس لیے آخر
بسنت رُت کو چُنا چاک دامنی کے لیے
فخرالدین بلے
No comments:
Post a Comment