Friday, 8 October 2021

انا کا علم ضروری ہے بندگی کے لئے

 انا کا علم ضروری ہے بندگی کے لیے

خود آگہی کی ضرورت ہے بیخودی کے لیے

کسی نے توڑ دیا دل کو دل لگی کے لیے

کوئی تڑپتا رہا عمر بھی کسی کے لیے

زمیں پہ اہلِ نظر، آسمان پر تارے

تمام رات تڑپتے ہیں روشنی کے لیے

میں کس سے پوچھوں کہ پھولوں نے کس لیے آخر

بسنت رُت کو چُنا چاک دامنی کے لیے


فخرالدین بلے

No comments:

Post a Comment