Friday, 8 October 2021

یہ فرق جیتے ہی جی تک گدا‌ و شاہ میں ہے

 یہ فرق جیتے ہی جی تک گدا‌ و شاہ میں ہے

وگرنہ، بعد فنا مُشتِ خاک راہ میں ہے

نشاں مقام کا غم اور نہ رہنما کوئی

غرض کہ سخت اذیت عدم کی راہ میں ہے

گدا نے چھوڑ کے دنیا کو نقد‌ دِیں پایا

بھلا یہ لطف کہاں شہ کے عز و جاہ میں ہے

پسند طبع نہیں اپنی چار دن کا ملاپ

مزا تو زیست کا اے میری جاں نباہ میں ہے


جارج پیش شور

No comments:

Post a Comment