رات بھر جلتا رہا ہے اپنے ساتھ
ایک آنکھوں کا دِیا ہے اپنے ساتھ
جب سے تُو چلنے لگا ہے اپنے ساتھ
شہر کا ہر راستہ ہے اپنے ساتھ
ایک رانی تھی کہانی میں جِسے
پڑھنے والا لے گیا ہے اپنے ساتھ
رات بھر جلتا رہا ہے اپنے ساتھ
ایک آنکھوں کا دِیا ہے اپنے ساتھ
جب سے تُو چلنے لگا ہے اپنے ساتھ
شہر کا ہر راستہ ہے اپنے ساتھ
ایک رانی تھی کہانی میں جِسے
پڑھنے والا لے گیا ہے اپنے ساتھ
بچھڑ کے ملنے کی کوئی دعا تو دے مجھ کو
ذرا سا جاتے ہوئے حوصلہ تو دے مجھ کو
وہ حبس ہے کہ کہیں سانس ہی نہ گُھٹ جائے
ہلا کے ہاتھ ذرا سی ہوا تو دے مجھ کو
تُو مُسکرائے تو شاید کہ میں سنبھل جاؤں
اے زندگی! تُو کوئی آسرا تو دے مجھ کو
کچھ رنگ وہ تصویر میں بھرنے نہیں دیتا
میں جان سے گزروں تو گزرنے نہیں دیتا
جس میں تِرا چہرا نظر آتا ہے ابھی تک
اس خواب کو آنکھوں میں بکھرنے نہیں دیتا
ہر بار نئے رنگ سے آتا ہے نکھر کے
وہ پیاس کے پیمانے کو بھرنے نہیں دیتا
دل تِری یاد میں ہر غم سے جدا تھا پہلے
ان درختوں کی طرح میں بھی ہرا تھا پہلے
لے گیا لوٹ کے خوابوں کی وہ نقدی بھی تمام
حاکمِ شہر بھی لگتا ہے گدا تھا پہلے
سامنے آ کے بھی فریاد نہیں سنتا تھا
شاید اس شہر میں پتھر کا خدا تھا پہلے
وہ آج تک مِرے معیارتک نہیں پہنچا
جو شخص ریت کی دیوار تک نہیں پہنچا
ہیں کتنے لوگ یہاں ایڑیاں اُٹھائے ہوئے
کسی کا سر ابھی دستار تک نہیں پہنچا
نجانے آنکھ سے کیسے نکل گیا آنسو
یہ اور بات کہ رُخسار تک نہیں پہنچا