Showing posts with label اشرف کمال. Show all posts
Showing posts with label اشرف کمال. Show all posts

Friday, 10 November 2023

رات بھر جلتا رہا ہے اپنے ساتھ

 رات بھر جلتا رہا ہے اپنے ساتھ

ایک آنکھوں کا دِیا ہے اپنے ساتھ

جب سے تُو چلنے لگا ہے اپنے ساتھ

شہر کا ہر راستہ ہے اپنے ساتھ

ایک رانی تھی کہانی میں جِسے

پڑھنے والا لے گیا ہے اپنے ساتھ

Monday, 9 October 2023

بچھڑ کے ملنے کی کوئی دعا تو دے مجھ کو

 بچھڑ کے ملنے کی کوئی دعا تو دے مجھ کو

ذرا سا جاتے ہوئے حوصلہ تو دے مجھ کو

وہ حبس ہے کہ کہیں سانس ہی نہ گُھٹ جائے

ہلا کے ہاتھ ذرا سی ہوا تو دے مجھ کو

تُو مُسکرائے تو شاید کہ میں سنبھل جاؤں

اے زندگی! تُو کوئی آسرا تو دے مجھ کو

Friday, 6 October 2023

کچھ رنگ وہ تصویر میں بھرنے نہیں دیتا

 کچھ رنگ وہ تصویر میں بھرنے نہیں دیتا

میں جان سے گزروں تو گزرنے نہیں دیتا

جس میں تِرا چہرا نظر آتا ہے ابھی تک

اس خواب کو آنکھوں میں بکھرنے نہیں دیتا

ہر بار نئے رنگ سے آتا ہے نکھر کے

وہ پیاس کے پیمانے کو بھرنے نہیں دیتا

Monday, 2 October 2023

دل تری یاد میں ہر غم سے جدا تھا پہلے

 دل تِری یاد میں ہر غم سے جدا تھا پہلے

ان درختوں کی طرح میں بھی ہرا تھا پہلے

لے گیا لوٹ کے خوابوں کی وہ نقدی بھی تمام

حاکمِ شہر بھی لگتا ہے گدا تھا پہلے

سامنے آ کے بھی فریاد نہیں سنتا تھا

شاید اس شہر میں پتھر کا خدا تھا پہلے

Friday, 7 May 2021

وہ آج تک مرے معیارتک نہیں پہنچا

 وہ آج تک مِرے معیارتک نہیں پہنچا

جو شخص ریت کی دیوار تک نہیں پہنچا

ہیں کتنے لوگ یہاں ایڑیاں اُٹھائے ہوئے

کسی کا سر ابھی دستار تک نہیں پہنچا

نجانے آنکھ سے کیسے نکل گیا آنسو

یہ اور بات کہ رُخسار تک نہیں پہنچا