کچھ رنگ وہ تصویر میں بھرنے نہیں دیتا
میں جان سے گزروں تو گزرنے نہیں دیتا
جس میں تِرا چہرا نظر آتا ہے ابھی تک
اس خواب کو آنکھوں میں بکھرنے نہیں دیتا
ہر بار نئے رنگ سے آتا ہے نکھر کے
وہ پیاس کے پیمانے کو بھرنے نہیں دیتا
جادو سا جگاتا ہے خط و خال سے اپنے
وہ خود کو مِرے دل سے اترنے نہیں دیتا
اک آس لیے دیکھتا رہتا ہے مسلسل
پنگھٹ سے وہ گھاگر مجھے بھرنے نہیں دیتا
کوشش تو بہت کی مِرے حالات نے لیکن
اک وقت مقرر مجھے مرنے نہیں دیتا
اشرف کمال
No comments:
Post a Comment