Friday, 6 October 2023

کچھ رنگ وہ تصویر میں بھرنے نہیں دیتا

 کچھ رنگ وہ تصویر میں بھرنے نہیں دیتا

میں جان سے گزروں تو گزرنے نہیں دیتا

جس میں تِرا چہرا نظر آتا ہے ابھی تک

اس خواب کو آنکھوں میں بکھرنے نہیں دیتا

ہر بار نئے رنگ سے آتا ہے نکھر کے

وہ پیاس کے پیمانے کو بھرنے نہیں دیتا

جادو سا جگاتا ہے خط و خال سے اپنے

وہ خود کو مِرے دل سے اترنے نہیں دیتا

اک آس لیے دیکھتا رہتا ہے مسلسل

پنگھٹ سے وہ گھاگر مجھے بھرنے نہیں دیتا

کوشش تو بہت کی مِرے حالات نے لیکن

اک وقت مقرر مجھے مرنے نہیں دیتا


اشرف کمال

No comments:

Post a Comment