Friday, 6 October 2023

خاک سا زرد ہوں سبزایا ہوا لگتا ہوں

 خاک سا زرد ہوں، سبزایا ہُوا لگتا ہوں

میں جو اک شوخ کا فرمایا ہوا لگتا ہوں

میرے ماتھے پہ سیہ رنگ سے لکھا ہے؛ نکل

سو میں بن ٹھن کے بھی ٹھکرایا ہوا لگتا ہوں

تُو مِری آنکھ کا نَم دیکھ کے اندازہ لگا

میں کسی طور بھی اپنایا ہوا لگتا ہوں؟

فلم کے سین میں اک اغوا شدہ بچہ ہوں

اور کچھ غنڈوں کا دھمکایا ہوا لگتا ہوں

خالی پن اوپری سطحوں پہ مجھے رکھتا ہے

دیکھنے والوں کو میں چھایا ہوا لگتا ہوں

جلتے سگرٹ سے جھڑی راکھ سمجھتے ہو اگر

ایسے اک ذات سے ٹپکایا ہوا لگتا ہوں


اسامہ خالد 

No comments:

Post a Comment