Showing posts with label تسکین قریشی. Show all posts
Showing posts with label تسکین قریشی. Show all posts

Sunday, 29 October 2023

کچھ ایسی جفاؤں میں لذت بڑھا دی

 کچھ ایسی جفاؤں میں لذت بڑھا دی

کہ جب دل دُکھا، ہم نے ان کو دُعا دی

تِرے عشق میں ہم نے ہستی مٹا دی

نہ بُھولے تجھے، اور دُنیا بُھلا دی

مزا درد کا دے کے تڑپانے والے

مجھے زندگی کی حقیقت بتا دی

Sunday, 15 October 2023

خدا کرے کبھی آئے نہ سازگار مجھے

 خدا کرے، کبھی آئے نہ سازگار مجھے

یہ دل کا درد جو رکھتا ہے بیقرار مجھے

نہ راہ پر ہے، نہ منزل پہ اختیار مجھے

یہ لے چلی ہے کہاں جستجوئے یار مجھے

عجیب چیز ہیں رُسوائیاں محبت کی

نہ اختیار ہے ان کو، نہ اختیار مجھے

Sunday, 20 August 2023

ابھی تک ہے یہ راز سینہ بہ سینہ

 ابھی تک ہے یہ راز سینہ بہ سینہ

محبت میں مرنا ہے مشکل، کہ جینا

اگر ہو نہ آہوں سے آباد سینہ

خِرد بے سلیقہ، جنوں بے قرینہ

وہی عظمتِ زندگی سے ہے واقف

کہ طوفاں سے گزرا ہے جن کا سفینہ

Saturday, 1 July 2023

عذر ستم سے دل نہ دکھاؤ پاس محبت رہنے دو

 عذر ستم سے دل نہ دکھاؤ پاس محبت رہنے دو

کون کہے گا تم کو ظالم، اور کہے تو کہنے دو

کوئی کنارا، کوئی سہارا، کیا جانے کب مل جائے

یہ طوفان کی ماری کشتی، بہتی ہے جب تک بہنے دو

حرف و حکایت، شُکر و شکایت دل میں لیے ہیں ہم کیا کیا

اپنے کرم کا ذکر کہاں تک، کچھ تو ہمیں بھی کہنے دو

Saturday, 24 June 2023

کچھ اتنا مضطرب اے دوست تیری یاد کرتی ہے

 کچھ اتنا مضطرب اے دوست تیری یاد کرتی ہے

کہ ان ہم سے ہماری زندگی فریاد کرتی ہے

خزاں کا راز کچھ ہو، ہم تو بس اتنا سمجھتے ہیں

چمن کو خود چمن ہی کی فضا برباد کرتی ہے

تغافل کا سبب ہے خود محبت کی ہمہ گیری

اسے کیا یاد آئے جس کو دنیا یاد کرتی ہے

Friday, 16 June 2023

ہر لمحۂ حیات دل و جاں پہ بار ہے

 ہر لمحۂ حیات دل و جاں پہ بار ہے

زندہ ہوں اس لیے کہ تِرا انتظار ہے

گُل چاک پیرہن ہے، کلی دلفگار ہے

شاید اسی کا نام چمن میں بہار ہے

ہزار غم، ہزار شکر کے قابل سہی، مگر

دل جس سے ٹوٹ جائے وہی سازگار ہے

Monday, 5 June 2023

وہ آغاز الفت کا نازک زمانہ

 وہ آغاز الفت کا نازک زمانہ

خود اپنی حقیقت، خود اپنا فسانہ

بدل کر بھی بدلا نہ رنگِ زمانہ

بہار آتے ہی لُٹ گیا آشیانہ

سمجھ لیں اسے کاش اہلِ زمانہ

محبت حقیقت ہے، باقی فسانہ

Sunday, 4 June 2023

دل اور وہ بھی ٹوٹا ہوا دل

 دل اور وہ بھی ٹُوٹا ہُوا دل

اب زندگی ہے جینے کے قابل

کیا زندگی کا احساسِ کامل 

تیرے بغیر اے غارتِ گر دل 

ہوتا ہے جتنا خونِ تمنّا 

بڑھتی ہے اتنی رنگینئ دل 

Wednesday, 26 October 2022

کچھ اور پوچھیے یہ حقیقت نہ پوچھیے

 کچھ اور پوچھیے، یہ حقیقت نہ پوچھیے 

کیوں مجھ کو آپ سے ہے محبت نہ پوچھیے 

سجدوں سے طے مقامِ محبت نہ ہو سکا

کیا کیا ہوئی ہے سر کو ندامت نہ پوچھیے 

کعبے میں، بت کدہ میں، حریمِ جمال میں

دل کی کہاں کہاں ہے ضرورت نہ پوچھیے