کچھ ایسی جفاؤں میں لذت بڑھا دی
کہ جب دل دُکھا، ہم نے ان کو دُعا دی
تِرے عشق میں ہم نے ہستی مٹا دی
نہ بُھولے تجھے، اور دُنیا بُھلا دی
مزا درد کا دے کے تڑپانے والے
مجھے زندگی کی حقیقت بتا دی
کچھ ایسی جفاؤں میں لذت بڑھا دی
کہ جب دل دُکھا، ہم نے ان کو دُعا دی
تِرے عشق میں ہم نے ہستی مٹا دی
نہ بُھولے تجھے، اور دُنیا بُھلا دی
مزا درد کا دے کے تڑپانے والے
مجھے زندگی کی حقیقت بتا دی
خدا کرے، کبھی آئے نہ سازگار مجھے
یہ دل کا درد جو رکھتا ہے بیقرار مجھے
نہ راہ پر ہے، نہ منزل پہ اختیار مجھے
یہ لے چلی ہے کہاں جستجوئے یار مجھے
عجیب چیز ہیں رُسوائیاں محبت کی
نہ اختیار ہے ان کو، نہ اختیار مجھے
ابھی تک ہے یہ راز سینہ بہ سینہ
محبت میں مرنا ہے مشکل، کہ جینا
اگر ہو نہ آہوں سے آباد سینہ
خِرد بے سلیقہ، جنوں بے قرینہ
وہی عظمتِ زندگی سے ہے واقف
کہ طوفاں سے گزرا ہے جن کا سفینہ
عذر ستم سے دل نہ دکھاؤ پاس محبت رہنے دو
کون کہے گا تم کو ظالم، اور کہے تو کہنے دو
کوئی کنارا، کوئی سہارا، کیا جانے کب مل جائے
یہ طوفان کی ماری کشتی، بہتی ہے جب تک بہنے دو
حرف و حکایت، شُکر و شکایت دل میں لیے ہیں ہم کیا کیا
اپنے کرم کا ذکر کہاں تک، کچھ تو ہمیں بھی کہنے دو
کچھ اتنا مضطرب اے دوست تیری یاد کرتی ہے
کہ ان ہم سے ہماری زندگی فریاد کرتی ہے
خزاں کا راز کچھ ہو، ہم تو بس اتنا سمجھتے ہیں
چمن کو خود چمن ہی کی فضا برباد کرتی ہے
تغافل کا سبب ہے خود محبت کی ہمہ گیری
اسے کیا یاد آئے جس کو دنیا یاد کرتی ہے
ہر لمحۂ حیات دل و جاں پہ بار ہے
زندہ ہوں اس لیے کہ تِرا انتظار ہے
گُل چاک پیرہن ہے، کلی دلفگار ہے
شاید اسی کا نام چمن میں بہار ہے
ہزار غم، ہزار شکر کے قابل سہی، مگر
دل جس سے ٹوٹ جائے وہی سازگار ہے
وہ آغاز الفت کا نازک زمانہ
خود اپنی حقیقت، خود اپنا فسانہ
بدل کر بھی بدلا نہ رنگِ زمانہ
بہار آتے ہی لُٹ گیا آشیانہ
سمجھ لیں اسے کاش اہلِ زمانہ
محبت حقیقت ہے، باقی فسانہ
دل اور وہ بھی ٹُوٹا ہُوا دل
اب زندگی ہے جینے کے قابل
کیا زندگی کا احساسِ کامل
تیرے بغیر اے غارتِ گر دل
ہوتا ہے جتنا خونِ تمنّا
بڑھتی ہے اتنی رنگینئ دل
کچھ اور پوچھیے، یہ حقیقت نہ پوچھیے
کیوں مجھ کو آپ سے ہے محبت نہ پوچھیے
سجدوں سے طے مقامِ محبت نہ ہو سکا
کیا کیا ہوئی ہے سر کو ندامت نہ پوچھیے
کعبے میں، بت کدہ میں، حریمِ جمال میں
دل کی کہاں کہاں ہے ضرورت نہ پوچھیے