عذر ستم سے دل نہ دکھاؤ پاس محبت رہنے دو
کون کہے گا تم کو ظالم، اور کہے تو کہنے دو
کوئی کنارا، کوئی سہارا، کیا جانے کب مل جائے
یہ طوفان کی ماری کشتی، بہتی ہے جب تک بہنے دو
حرف و حکایت، شُکر و شکایت دل میں لیے ہیں ہم کیا کیا
اپنے کرم کا ذکر کہاں تک، کچھ تو ہمیں بھی کہنے دو
مٹتے مٹتے داغ مٹیں گے دورِ ہوس کے اے تسکیں
بنتے بنتے دل بنتا ہے خوب اسے غم سہنے دو
تسکین قریشی
No comments:
Post a Comment