کسی سے کیسے کہے کوئی تجربہ دل کا
عجیب سانحہ ہوتا ہے سانحہ دل کا
کہیں نہ پھونک دیں شعلہ بدن متاعِ سکوں
چلا ہے شہرِ نگاراں کو قافلہ دل کا
مہ و نجوم مِری گردِ راہ پا نہ سکے
مہ و نجوم سے آگے تھا حوصلہ دل کا
کسی سے کیسے کہے کوئی تجربہ دل کا
عجیب سانحہ ہوتا ہے سانحہ دل کا
کہیں نہ پھونک دیں شعلہ بدن متاعِ سکوں
چلا ہے شہرِ نگاراں کو قافلہ دل کا
مہ و نجوم مِری گردِ راہ پا نہ سکے
مہ و نجوم سے آگے تھا حوصلہ دل کا
وفا کے بدلے تمہارا عتاب کیسا ہے
محبتوں کا مِری یہ جواب کیسا ہے
تھا آج سنگ مقدر مِرے لیے لیکن
تمہارے ہاتھ میں تازہ گلاب کیسا ہے
وہ قتل کرتے ہیں ہم آہ بھی نہیں کرتے
ستمگروں کو ہمارا جواب کیسا ہے
کیا کوئی مِرے غم میں رات بھر تڑپتا ہے
کیوں مِرا دلِ محزوں شام سے دھڑکتا ہے
عاشقی کی بستی میں شاعری کی دنیا میں
درد جتنا بڑھتا ہے،۔ آدمی نکھرتا ہے
چاند سو گیا، شاید رات ڈھلنے والی ہے
کس امید میں اے دل پھر بھی تُو مچلتا ہے
شہر آشوب میں گل ہائے وفا کس کو دوں
کون مخلص ہے میں الزام وفا کس کو دوں
شہر کے شور میں صحراؤں کا سناٹا ہے
دیر سے سوچ رہا ہوں کہ صدا کس کو دوں
وہ تو یوسف تھا مگر کوئی بھی یعقوب نہیں
خوں میں ڈوبی ہوئی میں اس کی قبا کس کو دوں
وفا شعاروں نے کی ہیں محبتیں کیا کیا
ہیں ان کے نام سے یارو روایتیں کیا کیا
ہم اہلِ درد جلاتے رہے سروں کے چراغ
ہیں شہر شب میں ہماری حکایتیں کیا کیا
یہ اضطراب یہ نالے یہ سوزشِ پیہم
ہیں ان کی دیکھیے ہم پر عنایتیں کیا کیا