Friday, 21 May 2021

شہر آشوب میں گلہائے وفا کس کو دوں

 شہر آشوب میں گل ہائے وفا کس کو دوں

کون مخلص ہے میں الزام وفا کس کو دوں

شہر کے شور میں صحراؤں کا سناٹا ہے

دیر سے سوچ رہا ہوں کہ صدا کس کو دوں

وہ تو یوسف تھا مگر کوئی بھی یعقوب نہیں

خوں میں ڈوبی ہوئی میں اس کی قبا کس کو دوں

شہر میں ویسے مہربان بہت سارے تھے

کون قاتل تھا مرا ہائے دعا کس کو دوں

شہر بے داد میں ہر شخص ہے پتھر پاشا

کس کی زنجیر ہلاؤں میں صدا کس کو دوں


پاشا رحمان

No comments:

Post a Comment