جہاں چھوڑا تھا تو اب تک وہیں ہے
مری جاں یہ محبت بھی نہیں ہے
بھروسہ تم پہ تھا سب سے زیادہ
ابھی تک تُو مرا کامل یقیں ہے
دغا جس نے دیا تھا ہم کو جاناں
ہمارے بیچ رہتا ہی کہیں ہے
جہاں چھوڑا تھا تو اب تک وہیں ہے
مری جاں یہ محبت بھی نہیں ہے
بھروسہ تم پہ تھا سب سے زیادہ
ابھی تک تُو مرا کامل یقیں ہے
دغا جس نے دیا تھا ہم کو جاناں
ہمارے بیچ رہتا ہی کہیں ہے
جونہی پُر جوش پنچھی کی اڑانیں ٹُوٹ جاتی ہیں
اُسی لمحے ہماری بھی کمانیں ٹوٹ جاتی ہیں
بڑے لوگوں کی باتیں ہیں انہیں بیٹا نہیں بدلو
نئے لہجے ملانے سے زبانیں ٹوٹ جاتی ہیں
تِرا نقصان واجب ہے کہ ان کا کچھ نہ جائے گا
وہ آنکھیں سامنے ہوں تو کمانیں ٹوٹ جاتی ہیں
ماں اور کووڈ 19
سردیوں کی راتوں میں
ایک دن کے بچے کو
اپنے گرم ہاتھوں میں
گرم کر کے رکھتی ہے
ایک دن کے بچے کو
کچھ پتا نہیں ہوتا
چپ کا زیور بات کرنے کا سلیقہ بن گیا
راز رکھتا ہی گیا پر خود تماشا بن گیا
شیشہ گر کے ہاتھ لگتے ہی وہ پتھر کا صنم
درد سے گریہ گزاروں کا مسیحا بن گیا
حجرۂ مرحوم کی مٹی بھی تھی خاکِ شفا
حجرۂ مخدوم کی مٹی سے کاسہ بن گیا
قید میں رکھتے تب بھی اس کے دل کی چھتری رو جاتی
بھاگ کے ہم جو باغ میں جاتے تِتلی تب بھی کھو جاتی
اس دُنیا نے خواب کے بُت میں دھڑکن ہونا تھا لیکن
ساحل کے پر لگ جانے سے کشتی کاغذ ہو جاتی
اقتدار کے ٹکڑے کر کے جرگے کے سرپنجوں نے
نیک اعمال کیے ہوتے تو جنت واجب ہو جاتی