Showing posts with label بلال ہادی. Show all posts
Showing posts with label بلال ہادی. Show all posts

Thursday, 19 February 2026

جہاں چھوڑا تھا تو اب تک وہیں ہے

 جہاں چھوڑا تھا تو اب تک وہیں ہے

مری جاں یہ محبت بھی نہیں ہے

بھروسہ تم پہ تھا سب سے زیادہ

ابھی تک تُو مرا کامل یقیں ہے

دغا جس نے دیا تھا ہم کو جاناں

ہمارے بیچ رہتا ہی کہیں ہے

Tuesday, 10 June 2025

جونہی پر جوش پنچھی کی اڑانیں ٹوٹ جاتی ہیں

 جونہی پُر جوش پنچھی کی اڑانیں ٹُوٹ جاتی ہیں

اُسی لمحے ہماری بھی کمانیں ٹوٹ جاتی ہیں

بڑے لوگوں کی باتیں ہیں انہیں بیٹا نہیں بدلو

نئے لہجے ملانے سے زبانیں ٹوٹ جاتی ہیں

تِرا نقصان واجب ہے کہ ان کا کچھ نہ جائے گا

وہ آنکھیں سامنے ہوں تو کمانیں ٹوٹ جاتی ہیں

Thursday, 20 February 2025

سردیوں کی راتوں میں ایک دن کے بچے کو

 ماں اور کووڈ 19


سردیوں کی راتوں میں

ایک دن کے بچے کو

اپنے گرم ہاتھوں میں

گرم کر کے رکھتی ہے

ایک دن کے بچے کو

کچھ پتا نہیں ہوتا

Thursday, 24 October 2024

چپ کا زیور بات کرنے کا سلیقہ بن گیا

 چپ کا زیور بات کرنے کا سلیقہ بن گیا

راز رکھتا ہی گیا پر خود تماشا بن گیا

شیشہ گر کے ہاتھ لگتے ہی وہ پتھر کا صنم

درد سے گریہ گزاروں کا مسیحا بن گیا

حجرۂ مرحوم کی مٹی بھی تھی خاکِ شفا

حجرۂ مخدوم کی مٹی سے کاسہ بن گیا

Tuesday, 8 October 2024

نیک اعمال کیے ہوتے تو جنت واجب ہو جاتی

قید میں رکھتے تب بھی اس کے دل کی چھتری رو جاتی

بھاگ کے ہم جو باغ میں جاتے تِتلی تب بھی کھو جاتی

اس دُنیا نے خواب کے بُت میں دھڑکن ہونا تھا لیکن

ساحل کے پر لگ جانے سے کشتی کاغذ ہو جاتی

اقتدار کے ٹکڑے کر کے جرگے کے سرپنجوں نے

نیک اعمال کیے ہوتے تو جنت واجب ہو جاتی